کراچی، سی ویو پر کائٹ سرفنگ کرنے والے کیمیکل انجینئر بدر رئیس سے ملیے

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی، سی ویو پر کائٹ سرفنگ کرنے والے کیمیکل انجینئر بدر رئیس سے ملیے
کراچی، سی ویو پر کائٹ سرفنگ کرنے والے کیمیکل انجینئر بدر رئیس سے ملیے

کراچی میں سی ویو کے مقام پر کائٹ سرفنگ کرنے والے کیمیکل انجینئر بدر رئیس کا کہنا ہے کہ شہرِ قائد کا ساحلِ سمندر کائٹ سرفنگ کیلئے دنیا کے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

جواں سال کیمیکل انجینئر نے ایم ایم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کائٹ سرفنگ کے بارے میں تکنیکی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔ بدر رئیس نے کہا کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے پیدل چل کر بھی آپ سی ویو تک پہنچ سکتے ہیں۔

کائٹ سرفنگ کے متعلق گفتگو کے دوران بدر رئیس نے کہا کہ اگرحفاظتی اقدامات پر عمل یقینی بنایا جائے تو کراچی کا ساحلِ سمندر اس شوق کیلئے بے حد موزوں ہے۔ یہاں ہوا کی رفتار بہت مناسب ہے اور دنیا بھر کے کائٹ سرفرز ایسی ہی ہوا تلاش کرتے ہیں۔

گفتگو کے دوران بدر رئیس نے کہا کہ پیشے کے اعتبار سے میں ایک کیمیکل انجینئر ہوں اور کائٹ سرفنگ میرا شوق ہے جو میں 2010ء سے کر رہا ہوں۔اس شوق کا آغاز آسٹریلیا میں ہوا۔ میرا خیال ہے میں پاکستان میں دوسرا یا تیسرا کائٹ سرفر ہوں۔

کیمیکل انجینئر بدر رئیس نے کہا کہ ہمارے ایک دوست آصف عزیز پاکستان میں مجھ سے پہلے سے کائٹ سرفنگ کر رہے ہیں۔ کائٹ سرفنگ میں استعمال ہونے والے کائٹ کے مختلف سائز دستیاب ہوتے ہیں جو 6 میٹر سے شروع ہو کر 17میٹر تک ہوسکتے ہیں۔

شہرِ قائد میں سرفنگ کیلئے کس سائز کا کائٹ استعمال کرنا چاہئے؟ اس حوالے سے بدر رئیس نے کہا کہ اس کا تعلق ہوا کی رفتار سے ہوتا ہے۔ اسے کائٹ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ پتنگ کی طرح ہوا میں اڑتا ہے۔ جو کائٹ میں استعمال کررہا ہوں وہ 14 میٹر کا ہے۔

کائٹ سرفنگ کی تکنیکی جزئیات پر روشنی ڈالتے ہوئے بدر رئیس نے کہا کہ جب ہم سرفنگ کرتے ہیں تو دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ کندھوں پر بہت زور پڑ رہا ہے جبکہ ایسا نہیں ہوتا، زور کندھوں کی بجائے پیٹھ پر پڑتا ہے۔

حفاظتی انتظامات کے متعلق انہوں نے کہا کہ جب ہمیں یہ لگتا ہے کہ کائٹ سرفنگ کے دوران کوئی خطرہ ہے یا کوئی بڑا مسئلہ پیش آسکتا ہے تو ہم ایک بٹن دبا کر کائٹ کو ہوا میں ہی چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارا بورڈ دوہری سمت میں ہوتا ہے۔

بدر رئیس نے کہا کہ جو بورڈ میں استعمال کر رہا ہوں اس کا سائز 145 بائی 45سینٹی میٹر ہے۔ جتنا بڑا بورڈ استعمال کیا جائے، اسے کنٹرول کرنے میں اتنی ہی مشکل پیش آتی ہے۔ چھوٹے بورڈ پر کنٹرول بہت اچھا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوا کی رفتار، سمت، بورڈ اور کائٹ کا حسین امتزاج ہی کائٹ سرفنگ کا بنیادی نکتہ ہے۔ پاکستان میں یہ شوق کافی مہنگا اور مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ تیرنا آتا ہو اور کائٹ پر کنٹرول کرسکتے ہوں، تب ہی یہ شوق پال سکتے ہیں۔

آخر میں بدر رئیس نے کہا کہ کائٹ سرفنگ سیکھنا ایک الگ تکنیکی عمل ہے جس سے گزرے بغیر آپ کامیاب سرفر نہیں بن سکتے۔ میں نے سمندر کے اندر اسکوبا ڈائیونگ بھی کی ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ سمندر کے اندر کی دنیا بے حد حسین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نوجوان نے ہڈیوں کو تباہ کردینے والی لاعلاج بیماری پر قابو پا لیا

Related Posts