وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اقدامات پر بریفنگ

تازہ ترین

تازہ ترین

مشکلات کے باوجود اقوامِ عالم میں کھویا ہوا مقام حاصل کرینگے، وزیراعظم
مشکلات کے باوجود اقوامِ عالم میں کھویا ہوا مقام حاصل کرینگے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں پر تفصیل سے بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی آباد کاری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں تمام وسائل کو بطریق احسن بروئےکار لانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے متاثرہ لوگوں کی امداد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بروقت بحالی کو یقینی بنانے کے لیے NDMA اور NHA کے کردار کو سراہا اور انہیں مزید بارشوں کے امکان کے تناظر میں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان اور امریکی سفیر کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا، شیریں مزاری

وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں وزیرمواصلات مولانا اسعد محمود، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان، وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری، وزیر ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق، وزیراعظم کے مشیر برائےامور کشمیر و گلگت بلتستان قمرزمان کائرہ، ممبر صوبائی اسمبلی ثناءاللہ بلوچ، چئیرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

ریلیف کمشنر آفس اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مشترکہ مون سون الرٹ جاری کردیا، مون سون الرٹ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو جاری کیا گیا جس میں مون سون الرٹ میں مون سون بارشوں کی تازہ لہر سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

پی ایم ڈی کی جانب سے زورآور مون سون بارشوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، بارشوں کے باعث دوبارہ سیلابی صورتحال متوقع ہے، مون سون بارشوں کا سلسلہ 10 اگست سے 13 اگست تک جاری رہے گا۔

گرج چمک کے ساتھ 16 اضلاع میں شدید بارشیں ہونگی۔لورالائی بارکھان کوہلو موسیٰ خیل شیرانی اور سبی میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ کچی بولان خضدار قلات پنجگور کیچ پسنی اور گوادر کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔

مراسلے میں ڈپٹی کمشنرز کو اہم مقامات پر بھاری مشینری کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ مراسلے میں نشیبی و پہاڑی علاقوں سے آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی فنڈ قائم کر دیا۔

Related Posts