اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے یا تعمیر کرنے والوں کے لیے میرا گھر میرا آشیانہ کے نام سے نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت فلیٹ، مکان یا پلاٹ خریدنے اور تعمیر کرنے کے لیے باآسانی قرضے حاصل کیے جا سکیں گے۔
مرکزی بینک کے مطابق پہلی بار گھر خریدنے والے افراد 20 لاکھ روپے سے ساڑھے 35 لاکھ روپے تک کے قرضے کے اہل ہوں گے۔ قرض کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال رکھی گئی ہے جبکہ ابتدائی 10 سال کے لیے سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔
یہ سہولت تمام کمرشل اور اسلامی بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (ایچ بی ایف سی) کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
کراچی کے طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری! وفاقی حکومت کا مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان، کب اور کہاں ملیں گے؟
اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپے تک کے قرض پر 5 فیصد اور ساڑھے 35 لاکھ روپے تک کے قرض پر 8 فیصد شرحِ سود لاگو ہوگی۔ مزید یہ کہ قرض کی پراسیسنگ فیس بھی معاف کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جولائی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 50 ہزار رہائشی یونٹس کے لیے مارک اپ سبسڈی اسکیم کی منظوری دی تھی جس کے لیے رواں مالی سال میں 72 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔
یہ اسکیم خاص طور پر ان افراد کے لیے متعارف کروائی گئی ہے جن کے نام پر پہلے سے کوئی جائیداد موجود نہیں۔ نادرا کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ رکھنے والے شہری 20 سال تک کی مدت کے لیے یہ قرض حاصل کر سکیں گے۔
ابتدائی 10 برس کے دوران 20 لاکھ روپے تک کے قرض پر 5 فیصد اور 20 لاکھ سے ساڑھے 35 لاکھ روپے تک کے قرض پر 8 فیصد فکسڈ شرح سود لاگو ہوگی، جس کے بعد مارکیٹ ریٹ کا اطلاق ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








