پانی کی بے رحم موجوں نے بستیاں روند ڈالیں؛ نیو یارک سمیت مشرقی ریاستیں زیرِ آب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ جیک کولوسیا )

امریکی شہر نیو یارک سٹی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ہے۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے، جس پر نیو یارک، نیو جرسی اور کنیٹیکٹ میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی امریکا سے گزرنے والا طوفان سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ طویل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیو جرسی کے گورنر فل مرفی نے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

ادھر میساچیوسٹس سے لے کر ورجینیا تک سیلابی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں فی گھنٹہ 2 سے 3 انچ تک پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔

ماحولیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقی ساحلی ریاستوں میں ہوا میں نمی کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے جبکہ ہوائیں سست ہونے کے سبب طوفان ایک ہی جگہ پر زیادہ دیر ٹھہرا ہوا ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ، 11 جولائی کو اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ ریاست ٹیکساس کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریسکیو آپریشنز میں مصروف اہلکاروں اور مقامی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ امریکی تاریخ کا بدترین سیلاب ہے، لیکن ہماری انتظامیہ نے زبردست کام کیا۔ خاص طور پر کوسٹ گارڈز کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے 169 بچوں کی جانیں بچائیں۔

صدر کے بقول کئی بچے اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے جبکہ جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ تاہم، امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مقامی حکام شہریوں کو بروقت خبردار کرنے میں ناکام رہے، جس پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

موسمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، لہٰذا عوام کو محتاط رہنے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

Related Posts