مشرق وسطیٰ: عالمی بحران کی فیکٹری

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا کے نقشے پر بعض خطے ایسے ہوتے ہیں جو محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سیاست، سلامتی اور معیشت کا مرکزی محور بن جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ بھی ایسا ہی خطہ ہے جہاں پیدا ہونے والی ہر چھوٹی بڑی  کشیدگی عالمی طاقتوں، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی ریاستوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں نے پورے خطے کو ایک نئی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران پر اسرائیل و امریکا کے جاری حملوں کو تیسری گلف وار سے بھی تعبیر کیاجاسکتا ہے جو پہلی دو گلف وارز کے مقابلے میں زیادہ خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے جس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ پہلے اسرائیل کبھی براہِ راست جنگ کے میدان میں نہیں کودا تھا لیکن ایران کے خلاف تیسری گلف وار کے دوران اسرائیل امریکا کا ساتھ حاصل کرکے براہِ راست جنگ میں کود پڑا ہے۔  موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد صرف چند دنوں میں ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں جبکہ ایران، لبنان اور امریکا سمیت متعدد ممالک اس تنازع کے براہِ راست یا بالواسطہ اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں تہران اور اس کے نواحی علاقوں میں تیل کی تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد آئل ڈپو اور اسٹوریج مراکز میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ایرانی دارالحکومت کے آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں کم از کم چار افراد شہید  ہوئے  جو ٹینکر ڈرائیورز تھے،  اگرچہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی، تاہم شہری صنعتی تنصیبات پر حملے کو غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اب تیل اور پانی کی تنصیبات پر چوہے بلی کا کھیل شروع ہونے والا ہے، الغرض یہ کہ جنگ سے متأثرہ علاقوں  میں رہنے والے افراد پر ایک قیامت ٹوٹ پڑنے کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔

آئل تنصیبات پر حملہ اسرائیل کی سوچی سمجھی سازش نظر آتا ہے کیونکہ ایران کا قدرتی ردِ عمل یہی ہوگا کہ وہ خلیج میں باقی آئل فیسلٹیز پر حملہ کرے جس سے دنیا میں تیل کی منڈی میں ایک بھونچال برپا ہوجائے گا جس سے زندگی کے تمام شعبہ جات میں مہنگائی کی لہر چھا جائے گی۔

پاکستان جیسے ممالک جو کہ توانائی پر بیشتر دولت خرچ کرتے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک قدرتی امر نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان سمیت مختلف ممالک اس عوامی ردِ عمل کو روکنا ناممکن ہوگا، اور مختلف ممالک کے حکمرانوں کی کرسیاں متزلزل ہونا شروع ہوجائیں گی۔

 اسی دوران لبنان بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ بیروت کے ساحلی علاقے راوشے میں ایک ہوٹل پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار افراد جاں بحق  اور دس زخمی ہوئے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق اس حملے کا ہدف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز تھے، تاہم اس عمارت میں جنگ سے بے گھر ہونے والے شہری بھی مقیم تھے جس کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس سے قبل لبنان اس تنازع میں اس وقت شامل ہوا تھا جب ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر حملے کیے تھے۔اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایران کی عسکری صلاحیت بھی ہے، خصوصاً اس کا میزائل اور ڈرون پروگرام۔ ایران کے پاس موجود میزائلوں کی درست تعداد اور اقسام کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، تاہم ماہرین کے مطابق شارٹ رینج، میڈیم رینج اور لانگ رینج میزائلوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ گزشتہ برس جون کی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی  کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔

رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اگرچہ ایران اپنے دفاعی نظام کو مکمل طور پر مقامی قرار دیتا ہے، لیکن چین کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات کی وجہ سے بعض اہم پرزوں اور تکنیکی معاونت کی فراہمی جاری رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل مدتی تعاون کا معاہدہ بھی موجود ہے جس میں سرمایہ کاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے۔

روس اور چین بظاہر اس جنگ میں براہِ راست شامل نہیں، مگر زمینی سطح پر ان کی مدد کے آثار نمایاں ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق روس ایران کو امریکی فوجی اڈوں اور دفاعی نظاموں کے بارے میں انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ چینی سیٹلائٹ ڈیٹا ایران کے لیے ہدف کے تعین میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔سیٹلائٹ  کے ذریعے حد درجہ درستگی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے کے باعث ایران کے میزائل حملے نسبتاً زیادہ درستگی کے ساتھ ہورہے ہیں اور میزائل ٹھیک ٹھیک نشانوں پر داغے جارہے ہیں۔

خطے کے خلیجی ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت جیسی معیشتیں بڑی حد تک تیل و گیس کی برآمدات، فضائی سفر، سیاحت اور خدمات کے شعبے پر انحصار کرتی ہیں۔ جنگ کے باعث سیاحت تقریباً رک چکی ہے، پروازیں متاثر ہو رہی ہیں اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششیں عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکیں گی۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے نفرت اور نئے بحران جنم لیتے ہیں۔

ایران کے اندر بھی سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت  کے بعد ایرانی قیادت  نے آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے اور پاسدارانِ انقلاب کے علاوہ ملک کی سیاسی قیادت نے بھی نئے سپریم لیڈر کی حمایت اور ان سے وفاداری کا عہد کرلیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات صرف غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں برطانیہ کے طیارہ بردار جہازوں کی ضرورت نہیں۔ اس بیان سے واشنگٹن اور لندن کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات بھی واضح ہو رہے ہیں۔

یہ تمام حالات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ جنگ صرف ایران، اسرائیل یا امریکا تک محدود نہیں رہی بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔ خلیجی ممالک کی معاشی کمزوری، عالمی توانائی کی منڈیوں کی حساسیت اور بڑی طاقتوں کی سفارتی کشمکش اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی کے نظام پر بھی دیرپا ہوں گے۔

پاکستان اس جنگ کے دوران ایک خاص مخمصے کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان پہلے ہی ذمہ دار ہے کہ سعودی عرب کا ساتھ دے ، گو کہ پاکستان نے ایران کو اس بات سے آگاہ کیا اور اپنی عالمی قانون کے تحت قانونی مجبوری کا بھی احساس دلایا ، مگر یہ آثار نظر آرہے ہیں کہ پاکستان میں اندرونی انتشار کا نہ صرف خطرہ ہوگا بلکہ ایک پرتشدد احتجاج کی صورتحال بھی اختیار ہوسکتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے  حکومت کو ملک میں پہلے سے سیاسی ہم آہنگی قائم رکھنا ہوگی تاکہ آگے چل کر اس تنازعے کے مضر اثرات پاکستان پر مرتب نہ ہوسکیں اور آگے جیسے جیسے ایران پر مزید بمباری اور قتل و غارت بڑھے گی، پاکستان میں بھی ایرانی مہاجرین کی آمد سمیت اس کے مزید اثرات و مضمرات نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ ملت اسلامیہ کو اس مشکل وقت میں اس امر کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ وہ اپنی صفوں میں یکجہتی برقرار رکھیں ، اگر یہ برقرار نہ رہی تو وہ آنے والے وقت میں ایسا نقصان اٹھا نے کا خدشہ ہے جس کی تلافی کرنا مشکل ہوجائے گا۔

Related Posts