اسلام آباد: سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں برس ستمبر تک زرِ مبادلہ ذخائر 2 ارب ڈالرز سے کم ہوجائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جرمن سفارتخانے میں کاروباری برادری سے خطاب کے دوران سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ زرِ مبادلہ ذخائر 2 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک گر جائیں گے جبکہ موجودہ سیاسی بحران پرانی کساد بازاری جیسا نہیں۔
اسٹاک مارکیٹ میں 287.82 پوائنٹس کا اضافہ
معاشی محاذ پر پاکستان کا آئی ایم ایف سے 7ارب ڈالرز کا قرض پروگرام کئی ماہ سے معطل ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر کی سطح 4 ارب 40 کروڑ ڈالرز تک آچکی ہے۔
سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان 3 ارب 70 کروڑ ڈالرز قرض کی ادائیگی اور 40 کروڑ ڈالر کا سود 2 ماہ کے اندر اندر ادا کرے گا۔ دیگر الفاظ میں بیرونی قرض کی دائیگی کیلئے 4ارب 10 کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 4ارب 10 کروڑ ڈالرز میں سے 1 ارب ڈالرزکی ادائیگی چین کے مرکزی بینک کے محفوظ ڈپازٹس میں سے کی جائے گی۔ اس طرح کل 3ارب 10کروڑ ڈالرز خرچ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 2 چینی بینکس سے 1 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا قرض لیا۔ اس میں بھی توسیع کی توقع ہے تاہم یہ عمل کچھ وقت کا متقاضی ہے۔ چین کو چیک بھیجا جاتا ہے، وہ 1 ماہ تک رقم اپنے پاس رکھتا ہے اور پھر قرض میں توسیع کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








