بھارت میں ہجوم کا 3 مسلمان نوجوانوں پر تشدد، 2 جاں بحق، 1 شدید زخمی

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت میں ہجوم
(فوٹو: آئی اسٹاک)

دیوبند: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ہجوم نے 3 مسلمان نوجوانوں پر بد ترین تشدد کیا جس کے نتیجے میں 2 نوجوان جاں بحق جبکہ 1 شدید زخمی ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سہارنپور کے سابق ایم پی حاجی فضل الرحمٰن نے چھتیس گڑھ میں سہارنپور اور شاملی کے 2 نوجوانوں سے موب لنچنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام کو خط لکھ دیا ہے۔

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے میں پل کے نیچے مویشیوں کی اسمگلنگ کے شبے میں 15 سے زائد افراد کے ہجوم نے  خریداری کر کے اڑیسہ جانے والے مویشیوں کے ٹرک کی ناکہ بندی کرکے ڈرائیور چاند میاں، صدام خان اور شاملی کے باشندے کو زدوکوب کیا۔

رات کے وقت تینوں افراد سے غیر انسانی سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جس کے دوران ڈرائیور چاند میاں موقعے پر جاں بحق ہوگئے، تحسین خان کا انتقال علاج کے دوران ہوا جبکہ نوجوان صدام شدید زخمی ہوگیا جس کی حالت تشویشناک ہے۔

رکنِ اسمبلی حاجی فضل الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ پولیس علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش کرے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ خیال رہے کہ بھارت میں ہجوم کے تشدد سے ہلاکتوں کے واقعات پر 2017 میں سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیے۔ سابق ایم پی حاجی فضل الرحمٰن نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 50، 50 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔

Related Posts