وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مودی حکومت کو خطے کے امن اور پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ قراردیا ہے، وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ نظریات نے خطے کی سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ بھارت کی طرف سے جاری متنازعہ کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن رہی ہیں اور یہ چنگاریاں کسی بھی وقت آگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
بھارت کی طرف سے لداخ کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش پر چینی فوج نے متنازعہ علاقے میں بھارتی فوج کے ٹینٹ اکھاڑ دیئے اور متعدد بھارتی فوجیوں کو بھی اپنی حراست میں لے لیا لیکن بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا تاہم چین نے اپنی فوجیں لداخ اور سکم کی سرحد پر تعینات کردیئے ہیں جبکہ بھارت نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے پاکستان کیخلاف میڈیا پر واویلا شروع کردیا ہے۔
شمال میں قراقرم اور جنوب میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع لَدّاخ اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث مشہور ہے، اس علاق ےکو تبت صغیر بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے پر تبتی ثقافت کے اثرات نمایاں ہیں اور یہاں بھارت نے غیر قانونی قبضہ کررکھا ہے جبکہ بھارت لداخ اور بلتستان میں اپنے قدم جمانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے اور اس مقصد کی تکمیل کیلئے گزشتہ سال اگست میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے خطے میں کشیدگی کی آگ بھڑکا چکا ہے جس کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر عالمی سطح پر احتجاج کرکے اقوام عالم کی توجہ اس نازک مسئلے کی طرف مبذول کرائی لیکن دنیا نے اس معاملے پر خاطر خواہ پیشرفت کے بجائے محض زبانی جمع خرچ سے کام لیا اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں مدد ملی اور بھارت آج نیپال اور چین کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیراقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے جس پر آج بھی بھارت تصفیہ سے انکاری ہے اور لداخ بھی متنازعہ خطہ اراضی ہے لیکن اس بار بھارت اپنے جال میں خود پھنس چکا ہے کیونکہ 1947ء کو کشمیر کا معاملہ بھی بھارت اقوام متحدہ میں لیکر تو گیا لیکن بعد میں مکر گیا لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے ۔
بھارت لداخ کے معاملے پر اقوام متحدہ سے مدد نہیں لے سکتا کیونکہ چین کے پاس ویٹو پاور موجود ہے اور وہ اس معاملے کو ویٹو کرسکتا ہے ،بھارت اس بار خود اپنے بچھائے جال میں پھنس چکا ہے، بھارت کی توسیعی کی خواہش خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ،اس سے پہلے کے خطے میں ایک نئی جنگ کے خطرات سر اٹھائیں، اقوام عالم بھارت کی ہٹ دھرمی کا نوٹس لیں اور بھارت کے مذموم عزائم کے سامنے بندھ باندھیں ۔