بھارتی ریاست اتر پردیش کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے ایک منفرد اور دلچسپ نظام متعارف کروایا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے قومی صحت مشن (NHM) کے تحت ڈاکٹرز کی تقرری کے لیے “ریورس بڈنگ سسٹم” یعنی کم ترین فیس کی بولی لگانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔
اس طریقۂ کار کے مطابق، ڈاکٹروں نے اپنی مطلوبہ ماہانہ تنخواہ کی آن لائن بولی لگائی اور سب سے کم بولی دینے والوں کو منتخب کیا گیا۔
ریورس بڈنگ سسٹم کے تحت اب تک مرادآباد میں 8 ڈاکٹروں کی تقرری عمل میں آ چکی ہے، جن میں سے چار کا تعلق مسلم برادری سے ہے۔
ریورس بڈنگ سسٹم کے تحت منتخب ہونے والے ڈاکٹر رضی شاہد (اینستھیٹسٹ) کو 3 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ پر ایم سی ایچ ونگ میں تعینات کیا گیا۔
ڈاکٹر پرانجل مشرا (کنسلٹنٹ فزیشن) کو بھی 3 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ کی بولی پر منتخب کیا گیا جبکہ ڈاکٹر اویس محبوب (آرتھوپیڈک سرجن) کو 2.10 لاکھ روپے ماہانہ پر ٹراما سنٹر میں ذمہ داری دی گئی۔
ڈاکٹر انل کمار گپتا (جنرل سرجن) اور ڈاکٹر پونم سنگھ (گائناکولوجسٹ) کو 70 ہزار روپے ماہانہ پر اسپتال میں جگہ ملی۔ ڈاکٹر ثنا عباد خان (چائلڈ اسپیشلسٹ) کو 1.79 لاکھ، ڈاکٹر اویناش سنگھ (آنکھوں کے ماہر) کو 1.795 لاکھ اور ڈاکٹر ارم راشد کو 1.65 لاکھ روپے ماہانہ پر تعینات کیا گیا۔
ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سنجیو بیلوال نے بتایا کہ اس “ریورس بڈنگ” نظام کے تحت کم بولی لگانے والے ڈاکٹروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اب تک 6 ڈاکٹرز نے باقاعدہ جوائننگ دے دی ہے جبکہ باقی 2 بھی جلد شامل ہو جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








