اسلام آباد سے لاہور جانے والی موٹر وے پر بدھ کے روز ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جب ایک الٹی ہوئی کار میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک خاتون اپنی بیٹی کے سامنے جھلس کر جاں بحق ہوگئیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ حادثے کے وقت موجود درجنوں افراد متاثرہ فیملی کی مدد کرنے کے بجائے موبائل فون سے ویڈیوز بنانے میں مصروف رہے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب گاڑی بے قابو ہو کر اُلٹ گئی اور چند لمحوں بعد شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔
موٹر وے پر گاڑی میں آگ ،والدہ بیٹی کے سامنے جل کر مر گئیں۔ pic.twitter.com/WeJPxYe507
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 20, 2025
گاڑی میں موجود فیملی نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم بدقسمتی سے ایک خاتون اندر پھنس گئیں اور بروقت مدد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔
واقعے کے عینی شاہد نے بتایا کہ جب وہ اپنی فیملی کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد جارہے تھے تو حادثے کی جگہ پر سیکڑوں افراد موجود تھے مگر کوئی مدد کے لیے آگے نہ بڑھا۔
انہوں نے اپنی گاڑی سے پانی کی بوتلیں نکال کر آگ بجھانے کی کوشش کی اور اردگرد کے لوگوں کو بھی مدد کے لیے پکارا، مگر اکثر افراد محض تماشائی بنے ویڈیوز بناتے رہے۔
جب يہ حادثہ ھوا تو ميں اپنی فيملی کيساتھ لاھور سے اسلام آباد جا رھا تھا اور يہ حادثہ اسلام آباد سے لاھور جانے والی سائيڈ پر ھوا يہ گاڑی الٹی ھوئ تھی اور سو دو سو لوگ ويڈيو بنانی ميں مصروف تھے ھم نے اپنی گاڑی روکی گاڑی ميں موجود پانی کی تين بوتليں لے کر فورا گيا اور پانی پہينکا…
— M. Shafique (@Shafim111) August 21, 2025
شہریوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد لوگوں نے گاڑی سے سامان نکالنے میں دلچسپی دکھائی مگر کسی نے یہ کوشش نہ کی کہ گاڑی کو سیدھا کرکے اندر پھنسی خاتون کو بچایا جا سکے۔ اس افسوسناک رویے نے انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید برآں، موقع پر موجود موٹر وے پولیس کے پاس آگ بجھانے کے آلات تک موجود نہ تھے اور نہ ہی بروقت فائر بریگیڈ پہنچی، جس پر متاثرین کے لواحقین اور شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری ریسکیو سہولیات اور عوامی تعاون میسر ہوتا تو قیمتی جان بچائی جاسکتی تھی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ حادثات کے وقت عوامی بے حسی اور متعلقہ اداروں کی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے، جس پر فوری توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








