اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں ضمانت منظور کرلی ہے۔
عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ملک بھر میں ہونے والے پُرتشدد احتجاجات اور سرکاری و عسکری تنصیبات پر حملوں کے بعد درج کیے گئے متعدد مقدمات کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کو تین رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ شامل کیا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نئے بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ دیگر جج صاحبان میں جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی شامل ہیں۔ بینچ جلد ہی عمران خان کی دیگر ضمانت کی درخواستوں پر دوبارہ سماعت کرے گا۔
گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا جس میں عمران خان کی ضمانت مسترد کی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کی درخواست پر حتمی رائے دینا مقدمے کے ٹرائل پر اثرانداز ہوسکتا ہے، اس لیے عدالت اس مرحلے پر قانونی نکات پر فریقین کی مزید معاونت چاہتی ہے۔
عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے وکالت کی جبکہ پنجاب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے وکلا کو ہدایت دی کہ وہ اگلی سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ آئیں تاکہ قانونی نکات پر جامع دلائل دیے جاسکیں۔
دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کے جسمانی ریمانڈ کی استغاثہ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ڈیوٹی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شبیر بھٹی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے استغاثہ کا مؤقف مسترد کردیا۔
یاد رہے کہ مرگلہ اور انڈسٹریل ایریا (آئی 9) تھانوں میں درج مقدمات میں کل 63 کارکنان نامزد ہیں، جن کے خلاف ایف آئی آر غیر متعلقہ افراد نے درج کروائی تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ عمران خان کے لیے بڑی قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم 9 مئی کے واقعات سے متعلق دیگر مقدمات بدستور زیر سماعت ہیں جبکہ توشہ خان کیس میں سزا کے باعث فی الحال عمران خان کا امکان کم ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








