ماں کی جنسی ہوس نے دو معصوم بچوں کی جان لے لی! 3 سالہ بیٹے اور 6 سالہ بیٹی کے قتل میں ملوث ماں آشنا سمیت پکڑی گئی، سنسنی خیز انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

Mother Kills Her Two Children in Sialkot Over Illicit Affair
ONLINE

سیالکوٹ کے مضافاتی گاؤں بھیکو چھور میں 28 جولائی 2025 کو پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔

دو معصوم بچوں، چھ سالہ ام کلثوم اور تین سالہ وارث، کی بے دردی سے قتل کی گئی لاشیں گاؤں کے قبرستان کے قریب سے ملیں۔ تفتیش کے بعد انکشاف ہوا کہ قاتل کوئی اور نہیں بلکہ بچوں کی سگی ماں نادرا اور اس کا آشنا ملک فاروق تھے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سیالکوٹ فیصل شہزاد نے بتایا کہ ملزمہ نادرا نے اپنے آشنا ملک فاروق کے ساتھ مل کر اپنے ہی بچوں کو اینٹوں کے وار کرکے بے رحمی سے قتل کیا۔

اس گھناؤنے جرم کی وجہ یہ تھی کہ چھ سالہ ام کلثوم نے اپنی ماں کو ملک فاروق کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ راز کھلنے کے خوف سے نادرا اور اس کے آشنا نے فیصلہ کیا کہ بچی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ نادرا نے اپنی بیٹی ام کلثوم کو بہلا پھسلا کر گاؤں کے ایک ویرانے میں لے گئی، جہاں ملک فاروق پہلے سے موجود تھا۔ وہاں معصوم بچی پر اینٹوں سے وار کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

تین سالہ وارث جو اپنی ماں اور بہن کے پیچھے چھپ کر ویرانے تک پہنچ گیا تھا، نے جب اپنی بہن پر وحشیانہ حملہ ہوتے دیکھا تو رونے لگا۔ اس معصوم گواہ کو بھی خاموش کرنے کے لیے نادرا اور ملک فاروق نے اسے اینٹوں سے کچل کر ہلاک کر دیا۔ قتل کے بعد دونوں ملزمان نے بچوں کی لاشیں قبرستان کے قریب پھینک دیں۔

کاشف، جو گاؤں کے نمبردار کے ڈیرے پر محنت مزدوری کرتا ہے، اپنی بیوی نادرا کے ناجائز تعلقات سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ جب اس کے بچے گھر سے غائب ہوئے تو وہ فوری طور پر تھانے پہنچا۔ پولیس کو اطلاع ملی کہ بچوں کی لاشیں قبرستان کے قریب پڑی ہیں، جس کے بعد ڈی پی او فیصل شہزاد نے خود تحقیقات کی نگرانی کی۔

سیالکوٹ پولیس نے فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے صرف چند گھنٹوں میں ملزمہ نادرا اور اس کے آشنا ملک فاروق کو گرفتار کر لیا۔ ڈی پی او فیصل شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید سائنسی طریقوں جیسے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کی بدولت ملزمان کو پکڑا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “گرفتار ملزمان کو عبرتناک سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی ماں اپنے بچوں کے ساتھ ایسی سنگدلی نہ کر سکے۔”

یہ واقعہ گاؤں کے ایک محنت کش خاندان کے لیے ناقابل برداشت صدمہ بن کر آیا۔ کاشف، جو اپنے بچوں کی قبروں کے سرہانے بیٹھا اپنے دکھ سے نڈھال ہے، بار بار یہی سوال دہراتا ہے کہ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کیسے مار سکتی ہے؟ دوسری جانب، مقامی ذرائع کے مطابق نمبردار اپنی طاقت اور اثر و رسوخ استعمال کرکے اپنے بیٹے ملک فاروق کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Related Posts