کراچی: دیوبند مسلک کے معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ حج اور عمرے پر پابندیوں اور سب سے بڑھ کر سنت کی اخبار آحاد کو حجت قرار نہ دینا اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ ملک کا رخ تبدیل ہو رہا ہے ۔
مسجد الحرام میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطے ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری پیغام میں مفتی محمد تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی سوچ کی تبدیلی پر عالم اسلام کے عوام اور علماء سب تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ حرمین شریفین سے ان سب ایک والہانہ رشتہ ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اپنے اس طرز عمل پر نظرثانی کرکے اپنی اصلاح کرے۔
حج اور عمرے پر پابندیاں اور سب سے بڑھ کر سنت کی اخبار آحاد کو حجت قرارنہ دینا یہ باتیں نشاندہی کررہی ہیں کہ ملک کارخ بدل رہا ہے
چنانچہ عالم اسلام کے عوام اور علماء سب تشويش ميں ہیں کیونکہ حرمین شریفین سے انکاوالہانہ رشتہ ہے سعودی حکومت اپنے اس طرزعمل پر نظر ثانی کرکے اصلاح کرے— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) July 30, 2021
مفتی تقی عثمانی نے اپنے ٹوئٹر پیغام مزید لکھا ہے کہ حرمین شریفین اور حجاج کی بے مثال خدمت کی وجہ سے ہم ہمیشہ سعودی عرب کے مداح رہے ہیں لیکن اب جو افسوسناک خبریں سوشل میڈیا پر اور کچھ براہ راست آرہی ہیں وہ اسلامی اور خود ملک عبدالعزیز کی روایات کے خلاف ہیں۔ حرم میں بے حجاب خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بازار کھول دینے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے رواں اپریل کے مہینے میں مسجد الحرام میں خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل آل سعود کی جانب سے خواتین کو مساجد کے انتظامی اور تکنیکی محکموں میں بھی تعینات کیا جاچکا ہے۔
سعودی عرب میں حج و عمرہ کے لیے آنے والوں زائرین کی خدمات ، نمازیوں کی خدمات کے لیے مسجد حرام میں اپنے مقررہ مقامات پر کام کررہی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خواتین اہلکاروں کی ذمہ داریوں میں احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کے نفاذ کی نگرانی اور حرم مکی میں خواتین سے متعلق تمام سیکیورٹی امور پر نظر رکھنا شامل ہے۔
دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








