مفتی تقی عثمانی نے حرم کعبہ میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو شعائر اسلام کے خلاف قرار دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

مفتی تقی عثمانی نے حرم کعبہ میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو شعائر اسلام کے خلاف قرار دے دیا
مفتی تقی عثمانی نے حرم کعبہ میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو شعائر اسلام کے خلاف قرار دے دیا

کراچی: دیوبند مسلک کے معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ حج اور عمرے پر پابندیوں اور سب سے بڑھ کر سنت کی اخبار آحاد کو حجت قرار نہ دینا اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ ملک کا رخ تبدیل ہو رہا ہے ۔

مسجد الحرام میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطے ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری پیغام میں مفتی محمد تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی سوچ کی تبدیلی پر عالم اسلام کے عوام اور علماء سب تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ حرمین شریفین سے ان سب ایک والہانہ رشتہ ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اپنے اس طرز عمل پر نظرثانی کرکے اپنی اصلاح کرے۔

مفتی تقی عثمانی نے اپنے ٹوئٹر پیغام مزید لکھا ہے کہ حرمین شریفین اور حجاج کی بے مثال خدمت کی وجہ سے ہم ہمیشہ سعودی عرب کے مداح رہے ہیں لیکن اب جو افسوسناک خبریں سوشل میڈیا پر اور کچھ براہ راست آرہی ہیں وہ اسلامی اور خود ملک عبدالعزیز کی روایات کے خلاف ہیں۔ حرم میں بے حجاب خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بازار کھول دینے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے رواں اپریل کے مہینے میں مسجد الحرام میں خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل آل سعود کی جانب سے خواتین کو مساجد کے انتظامی اور تکنیکی محکموں میں بھی تعینات کیا جاچکا ہے۔

سعودی عرب میں حج و عمرہ کے لیے آنے والوں زائرین کی خدمات ، نمازیوں کی خدمات کے لیے مسجد حرام میں اپنے مقررہ مقامات پر کام کررہی ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خواتین اہلکاروں کی ذمہ داریوں میں احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کے نفاذ کی نگرانی اور حرم مکی میں خواتین سے متعلق تمام سیکیورٹی امور پر نظر رکھنا شامل ہے۔

دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 158 رنز کا ہدف

Related Posts