لاہور:نیب اور اینٹی کرپشن نے چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی ڈگری،اختیارات سے تجاوز،اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر ریکارڈ طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ شہری کی درخواست پر ریکارڈ طلب کیا گیاہے۔درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر اسد اسلم کی جانب سے پی ایچ ڈی کے18 کریڈٹ آور پورے نہیں کئے گئے اور نہ ہی مطلوبہ امتحان پاس کیا گیا۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تصدیق نہیں کی، گورنر پنجاب سیکرٹریٹ بھی ڈاکٹر اسداسلم کی پی ایچ ڈی ڈگری پر جواب طلب کر لیا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز اسد اسلم نے چار سال سے پانچ سے زیادہ ایڈیشنل چارج سنبھال رکھے ہیں جو کہ پنجاب فنانس ڈپارٹمنٹ کے رولز کے مطابق 6 مہینے سے زیادہ نہیں رکھے جا سکتے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسد اسلم مختلف عہدوں پر اضافی چارج پر تعینات ہیں جن میں سی ای او میو اسپتال،پرنسپل کالج آف آپتھامولوجی بھی ہیں۔
سرکاری ملازم ہوتے ہوئے ڈاکٹر اسد اسلم مقبول احمد بلاک کی تعمیر کرنے والی پرائیویٹ پارٹی کے پراجیٹ ڈائریکٹر بھی ہیں،جس میں مبینہ طور پر 8 سو ملین کی خورد برد میں ملوث ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور جنرل اسپتال میں جعلی ڈاکٹروں کے ہاتھوں مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں





گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








