کراچی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل خاقان مرتضیٰ نے کہا ہے کہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے اور کاروباری لاگت کم کرنے کو یقینی بنایا گیا ہے جس کی بدولت کاروبار کی بے شمار راہیں کھلیں گی اور بہتر علاقائی رابطوں کے ذریعے سیاحت کو فروغ ملے گا جو معیشت کے لیے سازگار ثابت ہوگا۔
ہم ہر طرح کی تجاویز اور تنقید کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں تاکہ ہم سول ایوی ایشن اتھارٹی کی پیش کردہ خدمات کو مزید بہتر بناسکیں۔
سی اے اے ایئرپورٹس کے انفرااسٹرکچر کی بہتری اور مزید ترقی کے لیے سخت کوششیں کر رہی ہے جس میں نئے ہیلی پیڈز، ایئرپورٹ پر مسافر خانے کی اپ گریڈیشن، کچن اور کولڈ اسٹوریج کی توسیع وغیرہ شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سی اے اے نادر شفیع ڈار، ڈائریکٹر ایئر ٹرانسپورٹ اینڈ اکنامک ریگولیشن سی اے اے کموڈور عرفان صابر، صدر کے سی سی آئی ایم شارق وہرہ، نائب صدر ایم ثاقب گڈلک، نائب صدر شمس الاسلام خان اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔
ڈائریکٹر ایئر ٹرانسپورٹ اینڈ اکنامک ریگولیشن سی اے اے کموڈور عرفان صابر نے عالمی علاقائی اور ملکی سیاحت کو فروغ دینے میں ایوی ایشن میں شراکت داری پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر پورے ملک میں44 ایئرپورٹس ہیں جن میں سے 27فعال ہیں جبکہ 6 ایئرپورٹس کومحدود کردیا گیا ہے اور باقی 11 ایئرپورٹس سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے بند کردیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوری 2019 میں وزیر اعظم نے ایوی ایشن ڈویژن سی اے اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستان میں ایوی ایشن اور ایئر لائن انڈسٹری کی مدد کے لیے نیشنل ایوی ایشن پالیسی( این اے پی) کا جامع طور پر جائزہ لیں۔اس کے بعد پالیسی کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ کی طرف سے منظوری دی گئی جس میں باآسانی کاروبار کرنے اور کاروباری لاگت کم کرنے کو یقینی بنایا گیا ہے نیز ادا شدہ سرمائے اور سکیورٹی ڈپازٹ کو کم یا ریشنلائزڈ کرنا ، سیاحت کا فروغ دینا، سیمیلیٹر سیٹ اپس اور ایئر کرافٹ کی تیاری میں سہولیات فراہم کرنے کو پالیسی میں شامل کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ادا شدہ سرمائے اور سکیورٹی میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ کاروباری اخراجات کو کم کرنے کے لیے لیز زمینوں اور کرایوں کی شرح کو بھی معقول رکھا گیا ہے۔ایئرکرافٹ کی عمر کے حوالے سے پیرامیٹرزمیں بھی نرمی کی گئی ہے اور ادا شدہ سرمائے کو ریشنالائز کرنے کے ساتھ ساتھ لائسنس کی میعاد ایک سال سے بڑھا کر دو سال کردی گئی ہے۔
ڈائریکٹر ایئر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کے ذریعے سیاحتی فروغ اور ریجنل انٹیگریشن لائسنس متعارف کرایا گیا ہے اور اب تک 3 لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں جن میں مذہبی ، طبی سیاحت اور مہم جوئی شامل ہے۔
ٹی پی آر آئی لائسنس فکسڈ ونگ ایئرکرافٹ کے علاوہ ہیلی کاپٹر خدمات انجام دینے کا اختیار دیتا ہے جبکہ کم سے کم اداشدہ سرمائے کی ضرورت ایک کروڑ روپے ہے اور اس کے ساتھ ہی 50 لاکھ روپے کی سکیورٹی بھی درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ سی اے اے تمام سیاحتی مقامات سے فضائی رابطے کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو یقینی بناتا ہے مگر تاجربرادری بھی ایئرکرافٹ آپریشنز، ہیلی پیڈز کی تعمیر، لاجز، لاؤنجز، اسٹوریج کی سہولتوں اور سیاحت سے منسلک خدمات مہیا کرنے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔ایوی ایشن کے ساتھ تاجر برادری کے انضمام سے پاکستان کے حقیقی معنوں میں سافٹ امیج کو اجاگر کرنے کے علاوہ سیاحت کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
کراچی چیمبر کے صدر ایم شارق وہرہ نے نیشنل ایوی ایشن پالیسی( این اے پی)کو کامیاب بنانے کے لیے کے سی سی آئی کی جانب سے سی اے اے کے ساتھ مکمل تعاون اور حمایت کی پیشکش کی کیونکہ کراچی کی تاجربرادری ایوی ایشن اور ایئر کرافٹ کی صنعت کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی ہے جو ملک کی معاشی خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹس کی بنیادی انفرااسٹرکچر کی ترقی اور اس کی خوبصورتی کو اس انداز سے انجام دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایئرپورٹس سیاحت کے طرف راغب کرنے کے لیے پاکستانی ثقافت کی عکاسی کریں اور خاص طور پر دوستانہ نقطہ نظر کے تحت تاثر کو بہتر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
صدر کے سی سی آئی نے پورے ملک میں مختلف ایئرپورٹس کے توسیع اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کو سراہتے ہوئے کراچی میں جناح ٹرمینل کو جدید طرز پرتعمیر و توسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سی اے اے نے اپنی توجہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے پر مرکوز کی لیکن کراچی میں سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں باالخصوص اس کے ساحل کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ پالیسی سازی کے عمل میں کے سی سی آئی کو آن بورڈ پر رکھنا چاہیے تاکہ ہم سی اے اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور سیاحت کو مؤثر طریقے سے فروغ دینے کے طریقوں پر اپنے رائے دے سکیں۔
ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کاروباری راہیں تلاش کرنے کی لیے سی اے اے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
صدر کے سی سی آئی نے تاجروصنعتکار برادری کے ممبران کے لیے دونوں اداروں کے مابین مضبوط رابطہ قائم کرنے کے لیے کے سی سی آئی میں سی اے اے کی ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔