پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نواز شریف ن لیگی رہنما ؤں اور لیگی کارکنان کی پرزور فرمائش پر وطن واپس آگئے ہیں جبکہ ان کی وطن واپسی کے درجنوں دعوے اس سے قبل پانی پر تحریر کی طرح بے اثر ثابت ہوئے تھے اور ان کی ائیرپورٹ پر آمد کا اہتمام اور مینارِ پاکستان پر کی گئی تقریر کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا نواز شریف کو چوتھی بار ملک کا وزیر اعظم بنانے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں؟محسوس ایسا ہوتا ہے کہ معروضاتی حالات میں نواز شریف قانونی پیچ و خم سے نکلنے میں جلد کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب نواز شریف خودساختہ جلا وطنی پر چلے گئےجس کیلئے بیماری اور علاج کو آڑبنایا گیا، تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ اور اس وقت نواز شریف کے سیاسی نظریات کیا تھے ، اس کا جائزہ لینا اہم ہے۔ جب نواز شریف ملک چھوڑ کر گئے تھے، اس وقت کے مقابلے میں آج کے حالات یکسر مختلف ہیں اور ایک عام تاثر یہ ہے کہ نواز شریف کو جو بھی ریلیف مل رہا ہے وہ قانونی راستوں اور عدلیہ کے ذریعے ہی مل پارہا ہے، یہ اور بات ہے کہ پراسیکیوشن اپنے نرم رویے کے تحت اس کام کو سہل بنانے میں بہترین معاونت کار ثابت ہوتی اور موجودہ اہم کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے ۔
اس کے علاوہ یہ سوالات بھی اہم ہیں کہ جب نواز شریف کو سزا سنائی گئی تو کیا عدالت نے اس سے قبل انصاف پر مبنی طریقہ کار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مناسب طور پر سماعت کی؟ جبکہ اس تمام تر پیش منظر کے پس منظر میں پاک فوج ملکی ادارہ ہونے کے ناطے ایک اہم کردار کی حامل ہے کیونکہ موجودہ معروضاتی حالات اور دگرگوں معاشی صورتحال میں فوج کی جانب سے بہترین معاونت کاری نظر انداز نہیں کی جاسکتی ۔ کم از کم ہم اتنا تو ضرور جانتے ہیں کہ اگر پاک فوج کو نواز شریف کی وطن واپسی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو اعتراض بھی نہیں لگتا، بلکہ شاید موجودہ منظرنامے میں مسلم لیگ (ن) کو ہی بہتر گردانا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے خلاف سب سے بڑا منفی تاثر جو قائم ہوا وہ حال ہی میں سبکدوش ہونے والی حکومت کے دوران ہوا جو اس وقت قائم ہوئی تھی جب شہباز شریف اپریل 2022 میں عمران خان کے بظاہر آئینی طریقے سے تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی سے برطرف ہونے کے بعد ملک کے 23ویں وزیر اعظم بن گئے اور انہوں نے اگست 2023ء میں اقتدار نگران حکومت کے حوالے کردیا جس کی سربراہی نگران وزیرا عظم انوار الحق کاکڑ کر رہے ہیں۔
شہباز شریف حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی اور اس دور میں مہنگائی اس عروج کو پہنچی جس کا گزشتہ حکومت میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، پھر بھی مسلم لیگ (ن) کو امید ہےکہ نواز شریف کی وطن واپسی اور مہنگائی سے نجات کا نعرہ لگا کر عام انتخابات کے دوران کامیابی سمیٹی جاسکتی ہے۔ اگر ہم میاں نواز شریف کے کردار کا تجزیہ بطور وزیر اعظم کریں تو ان کے دور میں ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے پر توجہ دی گئی، ن لیگی حکومت تجارت کو لبرلائز کرنا چاہتی تھی اور ملک کو وڈیرہ شاہی نظام سے نکال کر صنعتی ترقی کرتی ہوئی ریاست بنانا بھی ن لیگی حکومت کے اہداف میں شامل تھا۔ 2019میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت نواز شریف کو 7سال قید کی سزا سنائی گئی، اس سے قبل انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کیا گیا تاہم تاریخ میں پہلی بار قید کی یہ سزا طبی بنیادوں پر ملک سے باہر جانے کیلئے معطل کردی گئی ۔
سزا معطل کیے جانے کے بعد نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوگئے تھے اور پھر رواں ماہ 21اکتوبر کو حالات کے ہموار ہونے پر وطن واپس لوٹ آئے۔ دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ایک یکسر مختلف سیاسی صورتحال اور الجھنوں کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر عمران خان کے دور میں پاکستان کے تعلقات بھارت اور امریکا سے کسی نہ کسی سطح پر کشیدہ ہوئے جبکہ نواز شریف بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے الگ سوچ رکھتے ہیں۔ امریکا کے ساتھ بھی نواز شریف حکومت کے کسی دور میں ایسی کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی کہ ملک کا وزیر اعظم امریکی صدر کے فون کا انتظار کرے اور پھر یہ بھی کہا جائے کہ جو بائیڈن اگر عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔
بطور سابق سفیر پاکستان میری ناقص رائے یہ ہے کہ سفارتی محاذ پر جارحانہ بیان بازی سے گریز ہی بہتر رہتا ہے کیونکہ ممالک کے تعلقات ملکی سیاست کی طرح نہ بہت جلدی قائم ہوتے ہیں اور نہ ہی بہت جلدی فروغ پاتے یا بگڑتے ہیں بلکہ اس کے پیچھے طویل محنت اور ریاضت ہوتی ہے۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ نواز شریف جیسا معاملہ فہم سیاستدان پاکستان کے خارجہ محاذ کو کم از کم پی ٹی آئی حکومت کے مقابلے میں بہتر طور پر سنبھال سکتا ہے جو پڑوسی ممالک اور امریکا کیلئے بھی ایک قابلِ قبول صورتحال ہے، لیکن خارجہ امور پر جو پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں، ان سے نبرد آزما ہونا بھی کوئی آسان کام نہ ہوگا۔
ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی پاکستان کے خارجہ تعلقات کی سمت درست کرنے کی خواہاں نظر آتی ہے اور یقیناً بہتر خارجہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور خوشحال معیشت ہی ہر ملک کا مطمعِ نظر ہوا کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر نواز شریف الیکشن میں خارجہ تعلقات میں بہتری کے نعرے کے ساتھ گئے تو ن لیگ سیاسی افق پر بہتر انداز میں نمودار ہوسکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آئندہ عام انتخابات نواز شریف جیتیں اور وزارتِ عظمیٰ بھی ان کا مقدر بنے تاہم اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے دیوار سے لگنے کا تصور قائم ہوا تو عوام کی اکثریت الیکشن کے نتائج قبول نہیں کرے گی ۔آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طورپر منعقد کرائے گئے عام انتخابات کے نتائج بہر صورت کسی بھی قسم کے تنازعات اور دھاندلی کے الزامات سے پاک ہونے ضروری ہیں تاکہ ملک میں مسلسل کئی ماہ سے جاری بے یقینی کی فضا کا خاتمہ ہوسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں