نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے ذریعے بچوں کی فحش ویڈیوز بنا کر پھیلا رہا تھا۔
ایجنسی کے تحقیقاتی افسر نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم حسین سے اس کے ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں تفتیش کرنی ہے اور مزید الیکٹرانک آلات یا مواد برآمد کیا جا سکتا ہے۔
موبائل فون استعمال کرنیوالے ہوشیار! مشہور ایپس میں خطرناک کوڈ شامل، ڈیٹا چوری اور ہیکنگ کا خطرہ
مجسٹریٹ نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ یکم اکتوبر 2025 کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (این سی ایم ای سی) کی جانب سے ایک شکایت این سی سی آئی اے کو بھیجی گئی۔
اس مرکز کو ٹک ٹاک کی طرف سے سائبر ٹپ لائن کے ذریعے رپورٹ موصول ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ ایک نابالغ بچے، جس کی عمر 13 سال سے کم ہے، کی فحش ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے اور اسے ملزم نے خود ریکارڈ کیا تھا۔ یہ واقعہ 16 اگست 2025 کو رپورٹ ہوا۔
تحقیقات کے دوران ٹیلی کام کمپنی سے حاصل کیے گئے سبسکرائبر اور کال ریکارڈز کی تفصیلات ملزم حسین تک جا پہنچی، جو جلالپور، پیر والا (ملتان) کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے مزید کہا کہ جمع کیے گئے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملزم انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ (ترمیمی) 2025 کی دفعہ 22 کے تحت سزاوار جرائم میں ملوث ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








