اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے منگل کے روز وکیل ایمان مزاری اور وکیل عبدالحادی علی چٹھہ پر ریاستی و قومی سلامتی اداروں سے متعلق متنازع ٹویٹ کیس میں فردِ جرم عائد کر دی۔
فردِ جرم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج افضل مجوکہ نے سماعت کے دوران سنائی۔ تاہم ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے۔
سماعت کے دوران ان کے معاون وکیل نے پیش ہو کر عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی اس سے قبل کارروائی میں شریک ہوئے تھے لیکن بعد ازاں راولپنڈی میں ایک اور سماعت کے لیے عدالت سے روانہ ہوگئے۔
ملک میں ہو کیا رہا ہے! ٹک ٹاک پر بچوں کی فحش ویڈیو بناکر بیچنے والا ملزم کیسے پکڑا گیا؟
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ وہ کس کی اجازت سے عدالت چھوڑ کر گئے۔ ملزمان کی غیر موجودگی کے باوجود جج نے فردِ جرم پڑھ کر سنائی اور پراسیکیوشن کے گواہوں کو اسی روز دوپہر ڈیڑھ بجے طلب کرنے کا حکم دیا۔
معاون وکیل نے فردِ جرم کے تحریری حکم نامے کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ اس کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی جائے۔ بعد ازاں سماعت کو دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








