پاکستان کے عوام کس پر بھروسہ کریں! نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

NCCIA officers, call centers linked to massive fraud network
ONLINE

اسلام آباد سے ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے متعدد افسران کے ایک بڑے فراڈ نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

تفتیشی ٹیموں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف کال سینٹرز پر چھاپے مار کر اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیے۔

ذرائع کے مطابق اب تک 20 سے زائد کال سینٹرز کی نشاندہی ہو چکی ہے جہاں مبینہ طور پر شہریوں کی ذاتی اور مالیاتی معلومات کاغلط استعمال کیا جا رہا تھا۔

ان سینٹرز سے حاصل ہونے والے کال لاگز، مالی لین دین کے ریکارڈز اور ای میلز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فراڈ کا یہ سلسلہ منظم طریقے سے جاری تھا۔

تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں دو ڈائریکٹرز، تین ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دو انسپکٹرز براہِ راست شامل ہیں۔ ان کے بینک اکاؤنٹس، موبائل ٹرانزیکشنز اور غیر ملکی فنڈ ٹرانسفرز کے شواہد بھی تفتیشی اداروں نے حاصل کر لیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فراڈ میں ملوث افسران کے مالیاتی ذرائع اور فنڈنگ نیٹ ورک کو بھی ٹریس کر لیا گیا ہے جبکہ کال سینٹرز کی سرگرمیوں کی ویڈیوز اور ڈیجیٹل فوٹیج بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔

قانونی کارروائی آئندہ چند روز میں شروع ہونے کا امکان ہے اور مختلف محکمے اس فراڈ میں ملوث افسران کے خلاف شواہد جمع کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور سید خرم علی کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وقار الدین سید کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ خرم علی جو اس سے قبل پنجاب حکومت کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے، اب این سی سی آئی اے کی سربراہی سنبھالیں گے۔

ادھر لاہور کی مقامی عدالت نے این سی سی آئی اے کے ان افسران کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے جو رشوت لینے کے الزامات میں گرفتار کیے گئے تھے۔

گرفتار افراد میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سمیت دیگر افسران شامل ہیں جنہیں مزید تفتیش کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے جاری کیا۔

Related Posts