آزادانہ خارجہ پالیسی کی ضرورت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان، چین، بھارت اور امریکا سمیت دنیا کے ہر ملک کی بین الاقوامی سطح پر پہچان اور قد کاٹھ کا اندازہ اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے جس میں اہمیت اس بات کو بھی دی جاتی ہے کہ اس ملک کی نمائندگی کرنے والے چہرے کون سے ہیں؟

مثال کے طور پر امریکا میں ملکی سیاسی و سرکاری نظام اس طرح کام نہیں کرتا جیسے پاکستان میں کرتا ہے۔ وہاں وزیر اعظم کی جگہ سربراہِ مملکت ملک کا صدر ہوتا ہے جو نظامِ مملکت کا فرق ہوا لیکن ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز میں سے جو اقتدار میں آتا ہے، وہ اپنی طرز کی ہی خارجہ پالیسی کو فروغ دیتا ہے۔

یقین نہ آئے تو ایک بڑی سادہ سی مثال صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن کے طرزِ حکومت کی دی جاسکتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تو عمران خان امریکی صدر سے ملاقات کرکے آگئے تاہم جو بائیڈن نے جو خارجہ پالیسی اپنائی وہ اس کے سراسربرعکس ہے۔ 

حد یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو بھی جوبائیڈن جیسے محتاط اور خارجہ معاملات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ زیرک سمجھے جانے والے صدر سے سخت محاذ آرائی کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز سامنے آنے والا بیان اس کی ایک بڑی مثال قرار دیاجاسکتا ہے۔

عمر رسیدہ ترین امریکی صدور میں شامل جو بائیڈن نے ڈیموکریٹک کانگریشنل کمیٹی سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان شاید دنیا کی خطرناک ترین قوموں  میں سے ایک ہے، ان کے پاس اتحاد کے بغیر جوہری ہتھیار ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کا ایٹمی پروگرام بے قاعدہ اور خدشہ ہے کہ اسے کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ممالک اتحاد پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں۔

بیان سامنے آتے ہی پاکستان میں تحریکِ انصاف اور اتحادی حکومت کی جانب سے ردِ عمل سامنے آیا اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، وزیر توانائی خرم دستگیر، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی و سرکاری رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے۔

ماہرینِ خارجہ امور بہتر بتا سکتے ہیں کہ جب کسی ملک کی خارجہ پالیسی کسی ایک سمت میں گامزن ہوتی ہے تو عالمی سطح پر اسے کسی خفت یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس کی معاشی صورتحال اور سیاسی قیادت کے مابین رسہ کشی سے متاثر رہی ہے۔

اگر قارئین کو یاد ہو تو جب عمران خان وزیر اعظم تھے اسی دور میں جب انہوں نے روس کا دورہ کیا اور اسی دوران جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو عالمی سطح پر یہ بات سنبھالنا پاکستان کیلئے مشکل ہوگیا تھا، اگر پاکستان کہتا کہ ہم روس کا ساتھ دیں گے تو امریکا اور اتحادی اور اگر یہ کہتا کہ ہم امریکا کا ساتھ دیں گے تو روس پاکستان کا دشمن بن سکتا تھا۔

خوش قسمتی سے پاکستان نے درمیان کی راہ چنی اور ایک ایسا مؤقف اپنایا گیا جو امریکا یا روس میں سے کسی ایک کا نہیں بلکہ اپنے ملکی مفادات کے حصول کیلئے اپنائی گئی خارجہ پالیسی کا عکاس تھا اور آج بھی پاکستان کو ایک ایسی ہی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔

موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان نے امریکا کے خلاف سخت بیانات دے کر اور امریکی سازش کا حوالہ دے کر پاک امریکا تعلقات کو سبوتاژ کیا اور ہم پاک امریکا سفارتکاری واپس لائے، اگر سرکاری حکمتِ عملی کامیاب سمجھی جائے تو امریکی صدر کے بیان کو کس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا پھر اتحادی سیاسی جماعتوں کی حکومت، ہمیں خارجہ محاذ پر یکجہتی کے اظہار پر مبنی اور آزادانہ خارجہ پالیسی کی آج اس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جتنی کہ ماضی میں کبھی تھی تاکہ امریکی صدر کے بیان سمیت دیگر تمام تر چیلنجز کا جوانمردی سے سامنا کیا جاسکے۔ 

Related Posts