کھٹمنڈو: نیپال کے وزیرِاعظم کے پی شرما اولی نے منگل کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، یہ فیصلہ شدید عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا، مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر اور سپریم کورٹ کو بھی آگ لگادی ہے جبکہ پارلیمنٹ پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
کے پی شرما اولی نے صدر کو بھیجے گئے خط میں لکھا کہ میں نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے تاکہ سیاسی حل کی جانب مزید اقدامات کیے جا سکیں اور مسائل کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔
نیپال میں پیر کو شروع ہونے والے احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گئے جب حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی اور کرپشن کے خاتمے کے مطالبات کو نظر انداز کیا۔
پابندی اٹھا لیے جانے کے باوجود نوجوان مظاہرین نے کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکلنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پولیس کے ترجمان شیکھر کھنال کے مطابق کئی گروہوں نے کرفیو کو مسترد کر دیا اور مختلف علاقوں میں سرکاری عمارتوں اور سیاست دانوں کی جائیدادوں کو نشانہ بنایا گیا۔
Protesters in Nepal have attacked and burnt down the houses of Nepal's President, Prime Minister and other Ministers.
Kathmandu airport has stopped all operations.#NepalGenZProtest pic.twitter.com/MHfWdAzqfb
— With Love Bihar (@WithLoveBihar) September 9, 2025
73 سالہ وزیرِاعظم اولی نے بدھ کو آل پارٹیز مذاکرات کی سربراہی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ تشدد کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن قائم کریں گے۔ اس سے قبل پیر کو وزیرِداخلہ نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ منگل کو دو مزید وزراء کے استعفے سامنے آئے۔
نیپال میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، کرپشن اور حکومتی نااہلی کے خلاف عوامی غم و غصہ طویل عرصے سے بڑھ رہا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 43 فیصد آبادی 15 سے 40 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ بیروزگاری کی شرح تقریباً 10 فیصد ہے۔ عالمی بینک کے مطابق فی کس جی ڈی پی صرف 1447 امریکی ڈالر ہے۔
پیر کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور عوام میں شدید جھڑپیں ہوئیں، مظاہرین نے خاردار تاریں عبور کرکے پارلیمنٹ کے قریب داخل ہونے کی کوشش کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق صرف کھٹمنڈو میں 17 افراد جبکہ مشرقی ضلع سنساری میں مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ پولیس کے مطابق تقریباً 400 افراد زخمی ہوئے جن میں 100 سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
عالمی اداروں نے بھی ان واقعات پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مظاہرین کے خلاف براہِ راست گولیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ نے شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں عام نیپالی عوام کی مشکلات کا موازنہ سیاست دانوں کے بچوں کی پرتعیش زندگیوں سے کیا جا رہا ہے جہاں وہ مہنگی اشیاء اور بیرونِ ملک سیر و تفریح کا دکھاوا کرتے ہیں۔ یہ ویڈیوز خاص طور پر ٹک ٹاک پر بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہیں، جس پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








