بھارتی حکومت نے قندھار ہائی جیک کی تاریخ مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہائی جیکرز کو ہندو دکھانے پر نیٹ فلکس انڈیا کی ہیڈ آف کونٹینٹ کو طلب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی سیریز آئی سی 814 دی قندھار ہائی جیک میں ہائی جیکرز کیلئے بھولا اور شنکر کے ناموں کا استعمال کیا جس پر بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی۔ ویب سیریز کی بنیاد 1999 کی بھارتی ائیر لائنز کی ہائی جیکنگ پر رکھی گئی ہے۔
آج سے کم و بیش 25سال قبل دسمبر 1999 میں بھارتی ائیر لائنز کی کھٹمندو سے دہلی آنے والی پرواز کو ہائی جیک کرلیا گیا تھا۔ پرواز کو پہلے امرتسر، پھر لاہور، پھر دبئی اور پھر قندھار لے جایا گیا۔ ہائی جیکرز نے مسافروں کی رہائی کے بدلے بھارتی جیلوں سے مولانا مسعود اظہر کو آزاد کروایا تھا۔
دہشت گردوں نے بھارتی حکومت سے مشتاق احمد زرگر اور اھمد عمر سعید کو بھی آزاد کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ جہاز کے مسافروں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ ہائی جیکرز جب آپس میں بات چیت کرتے تھے تو ایک دوسرے کیلئے چیف، برگر، ڈاکٹر، شنکر اور بھولا کے نام استعمال کرتے تھے۔
بعد ازاں بھارتی حکومت نے ہائی جیکرز کی شناخت ابراہیم اطہر، شاہد اختر، سنی احمد قاضی، مستری ظہور ابراہیم اور شاکر کے ناموں سے کروائی۔ موجودہ بھارتی حکومت کا ویب سیریز قندھار ہائی جیک پر تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہائی جیکرز دہشت گرد تھے جنہوں نے اپنی مسلم شناخت چھپائی۔
حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما امیت مالویا نے کہا کہ دہشت گردوں نے فرضی ناموں کا استعمال کیا۔ فلم سازوں نے گیر مسلم نام استعمال کرکے ہائی جیکرز کا مجرمانہ ارادہ جائز ظاہر کیا ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد بھی لوگ ہندوؤں پر اس ہائی جیکنگ کا الزام لگائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








