قربانی کے نصاب کا مسئلہ اور نیا چیلنج

تازہ ترین

تازہ ترین

ویسے تو ہر عید پر ہی یہ رونا دھونا جاری رہتا ہے کہ بھئی جانور بہت مہنگے ہیں۔ مگر اس سال پہلی بار ایسی صورتحال پیش آئی کہ جانوروں کی قیمت سفید پوش لوگوں کے لئے ایک بڑا وبال بن گئی۔

اس وبال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ قربانی کا نصاب چاندی سے جڑا چلا آرہا ہے۔ اب چاندی چونکہ سونے کے مقابلے میں بہت سستی چیز ہے تو اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جو زکوٰۃ والے معیار کے مطابق “صاحب نصاب” نہیں ہوتے۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ وہ لوئر مڈل کلاس کے لوگ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سال علماء کرام کی سطح پر بھی یہ بحث چھڑ گئی کہ قربانی کے نصاب کو چاندی سے مربوط رکھنے والے مؤقف پر نظر ثانی کی جائے۔

زیر نظر کالم میں “علماء کرام” سے فیس بک والے گدھے ہرگز مراد نہیں۔ بلکہ ہماری مراد وہ علماء ہیں جن کے دن رات تفقہ میں ہی گزرتے ہیں اور وہ فقہی مسائل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ایسے علماء کے ایک حلقے کا یہ مؤقف ہے کہ چاندی کو معیار بنانے والے مؤقف سے رجوع کیا جائے اور سونے کو ہی معیار نصاب بنا لیا جائے۔ اس سے لوئر مڈل کلاس کی بہت بڑی مشکل دور ہو جائے گی۔ اور یہ کلاس قربانی کے بوجھ سے آزاد ہوجائے گی۔ ہم بوجھ لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ جب کوئی چیز استطاعت سے نکل جائے تو وہ بوجھ ہی بن جاتی ہے۔ علماء کے دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ چاندی والا معیار ہی برقرار رکھا جائے۔ امید قوی ہے کہ اگلی عید سے قبل ہی یہ چاندی والا معیار ختم کردیا جائے گا اور قربانی کے معاملے میں بھی سونا ہی معیار نصاب قرار پا جائے گا۔ جو بلاشبہ ایک بہت ہی مستحسن اقدام ہوگا۔

ہم اس ممکنہ اقدام کو مستحسن اس لئے کہہ رہے ہیں کہ یہی مزاجِ دین ہے۔ اپنے دین کی اہم خصوصیت اللہ سبحانہ و تعالی نے یہ بیان فرما رکھی ہے کہ اس میں آسانی بہت ہے، مشکل کوئی نہیں۔ دین کے اس مزاج کا اندازہ حج کی فرضیت والے معاملے میں دیکھا جاسکتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی نے حج کی فرضیت کے معاملے “من استطاع الیہ سبیلا” کی صراحت فرمائی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس پر فرض ہوگا جو زاد راہ بھی رکھتا ہو، اور سفر حج کا راستہ بھی پر امن ہو، جان و مال کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ اب اگر آپ غور کیجئے تو یہ اللہ سبحانہ و تعالی کا طے کردہ سٹینڈرڈ ہے کہ اگر “استطاعت” کا چیلنج درپیش ہوا تو فرض عبادت بھی فرض نہیں رہے گی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فقہاء امت نے بھی قیاس فقہی والے مسائل میں ہمیشہ اس پہلو کو مد نظر رکھا ہے کہ کوئی حکم شرعی جاری کرتے ہوئے عوام کے لئے مشکل نہ کھڑی کردی جائے۔ اس اصول کے اطلاق کا اندازہ ہمیں بعض بظاہر بہت چھوٹے چھوٹے مسائل میں ہی ہوجاتا ہے۔ مثلاً امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہ موقف کہ اگر نماز کا وقت ہو رہا ہے اور بھوک لگی ہے تو پہلے کھانا کھایئے اور پھر نماز پڑھئے۔ یہی سوال اگر “علماء فیس بک” کے سامنے آتا اور امام صاحب کی یہ صراحت موجود نہ ہوتی تو انہوں نے تو یہی کہنا تھا:

“استغفراللہ، کھانے کو نماز پر ترجیح دینا ؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ”

مگر امام صاحب رحمہ اللہ کے سامنے دو پہلو تھے۔ ایک یہ ایک شخص کو بھوک لگی ہے تو وہ مشکل میں ہے۔ سب سے پہلے اس کی مشکل ختم کی جائے۔ اور دوسرا پہلو یہ کہ اگر یہ بھوک کی حالت میں نماز پڑھے گا تو کھانے کے لئے نماز میں جلد بازی کرکے نماز کو غارت کرے گا۔ لہٰذا انہوں نے فرمایا، ایسا شخص پہلے اطمینان سے کھانا کھائے، اور پھر اطمینان سے ہی نماز پڑھے۔ مشکل سے نجات کو ترجیح کی دوسری مثال “خروج عن المسلک” والا مسئلہ ہے۔ خروج عین المسلک اسے کہتے ہیں کہ بالفرض حنفی مسلک کا کوئی مؤقف آنے والے زمانوں میں کوئی مشکل کھڑی کردے تو ایسی صورت میں اس زمانے کے حنفی علماء ہی یہ طے کرلیں کہ اس مئلے میں اب ہم شوافع یا کسی بھی دوسرے مسلک کے مؤقف پر عمل کریں گے جو نسبتاً آسانی رکھتا ہے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک خروج عن المسلک جائز ہے۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ بصائر و عبر میں اس پر لکھ چکے ہیں۔ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ سعودیوں کے ہاں بھی خروج عن المسلک نظر آتا ہے۔ مثلًا حنابلہ کا موقف یہ چلا آرہا تھا کہ وقوف مزدلفہ ہر حال میں حدود مزدلفہ میں ہی ہوگا۔ جبکہ احناف کا مؤقف یہ تھا کہ اگر حجاج کی تعداد اتنی بڑھ جائے کہ ان کے لئے مزدلفہ کی حدود ناکافی ہوجائے تو ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ باقی حجاج دم کا جرمانہ بھریں۔ بلکہ مزدلفہ سے قریب تر حدود منٰی میں وقوف بھی وقوف مزدلفہ شمار ہوگا۔ چنانچہ سعودی حکومت اب اس مسئلے میں احناف کے مسلک پر ہی عمل کرتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ خروج عن المسلک ہی ہے۔ سو قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ خروج عن المسلک کی آپشن کیوں عمل میں آتی ہے؟ صرف اور صرف عوام کی “مشکل” ختم کرنے لئے۔

یہاں یہ غلط فہمی لاحق نہیں ہونی چاہئے کہ یہ خدا نخواستہ دین کے ساتھ کوئی کھلواڑ ہے کہ اتنے سو سال ایک مؤقف رہا اور اب یہ مؤقف بن گیا۔ یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لینی چاہئے کہ شریعت دین کا “لاء ڈیپارٹمنٹ” ہے۔ اور اس لاء ڈیپارٹمنٹ میں ایسے مسائل کی تعداد بہت قلیل ہے جہاں قرآن مجید یا سنت نے کوئی لاء دے رکھا ہو۔ ایسے قوانین میں ردوبدل کا اختیار کسی کو نہیں۔ پوری امت بھی مل کر ان میں ردوبدل نہیں کر سکتی۔ لیکن ان قوانین کا غالب ترین حصہ وہ ہے جو قیاسی یعنی اجتہادی ہیں۔ یہ قوانین دینی ماہرین قانون کے تشکیل کردہ ہیں جنہیں فقہاء کہا جاتا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کے دور میں ان قیاسی قوانین کو بھی دین سمجھا جانے لگا ہے تو انہوں نے پوری صراحت کے ساتھ متنبہ کیا کہ قیاس فقہی دین نہیں ہے۔ دین وہی ہے جو قرآن مجید یا خبر متواتر سے ہم تک پہنچا ہے۔ اور قیاس فقہی میں ایسی کوئی بات نہیں۔ دوسری بات شاہ صاحب نے کیا ہی شاندار فرمائی۔ فرمایا، قیاس فقہی دائمی نہیں ہوتا۔ اس میں کبھی بھی ردوبدل ہوسکتا ہے۔عین ممکن ہے قیاس فقہی کا ایک مؤقف آج کے زمانے میں آسان ہو مگر آنے والے دور میں وہ کوئی مشکل کھڑی کردے۔ چنانچہ ایسی صورت میں پرانا مؤقف تبدیل ہوگا۔ سو اگر علماء کرام قربانی کے نصاب والے مسئلہ میں نصاب کو چاندی سے ہٹا کر سونے سے جوڑ دیتے ہیں تو یہ عین شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی رہنمائی پر عمل ہوگا۔

Related Posts