نئے چیئرمین نیب کا انتخاب

تازہ ترین

تازہ ترین

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی چار سالہ مدت اگلے ماہ ختم ہو رہی ہے۔اس کے باوجود وفاقی حکومت ابھی تک اس بارے میں فیصلہ نہیں کر سکی ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔

چیئرمین نیب کا تقرر وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کرنا ہوتا ہے تاہم وزیر اعظم عمران خان اس معاملے پر شہباز شریف سے مشورہ کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اپوزیشن لیڈر نیب کی جانب سے دائر کرپشن ریفرنسز میں نامزد ملزم ہیں۔

اب حکومت چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے تمام قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے جس میں موجودہ چیئرمین کوتوسیع دینا یا دوبارہ ان کی تقرری بھی شامل ہے۔

اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بغیر نیب کے نئے چیئرمین کی تقرری حکومت کے لیے نئے چیلنجوں کا باعث بن سکتی ہے۔ اس فیصلے کو یقینی طور پر نیب آرڈیننس کے تحت مطلوبہ طریقہ کار پر عمل نہ کرنے پر چیلنج کیا جائے گا کیونکہ چیئرمین نیب کے تقرر کیلئے اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کرناانتخاب نہیں بلکہ ایک قانونی پابند ی ہے اور حکومت کی جانب سے یکطرفہ فیصلہ غیر آئینی بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا بھی ممکن ہے۔

حکومت کسی بھی مشکل صورتحال سے بچنے کے لیے موجودہ چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع پر غور کر رہی ہے تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔اگر حکومت پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے آرڈیننس لانے یا قانون پاس کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بڑا ہنگامہ ہوسکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو منی لانڈرنگ اور زائد اثاثوں سے متعلق کئی نیب کیسز کا سامنا ہے۔ وہ آشیانہ ہاؤسنگ اور رمضان شوگر مل اسکینڈلز میں بھی ملزم ہیں اور ان مقدمات میں تقریبا ًایک سال تک جیل میں رہے اور اس وقت ضمانت پر ہیں تاہم ن لیگ نے اپوزیشن کے خلاف ریفرنسز کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور سبکدوش ہونے والے چیئرمین پر وزیراعظم کے کہنے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ شہباز شریف مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر براجمان ہیں ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے ذہن بناچکی ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ اہم عہدے کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں احتساب کا عمل کسی صورت متاثر نہ ہو۔

Related Posts