امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت ایران پر حملے کیلئے نہ صرف تیار ہے بلکہ کارروائی کے آپشنز پر غور بھی کر رہی ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے دعوے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں پر بریفنگ دی گئی، ٹرمپ انتظامیہ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران تہران میں غیر فوجی اہداف پر حملوں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے لگی۔
دعوے کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاحال ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکے، تاہم ایرانی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے مظاہروں کو دبانے کی کوششیں کیں، جس کے ردِ عمل میں صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہرے آج 13ویں روز میں داخل ہوگئے، مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کی جھڑپوں سمیت دیگر واقعات میں 65افراد ہلاک ہوگئے جن میں 15سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایرانی قیادت کو خبردار کرچکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو ایران کو سخت حملے کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ نے مظاہروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی صورتحال عمومی طور پر بہتر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ مسائل ایسے ہیں جو پابندیوں اور اقتصادی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔ ایسی حکومت کے لیے جو عوامی حاکمیت اور جمہوریت پر مبنی ہو، احتجاج فطری ہیں۔ اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








