امریکا میں کیے گئے نائن الیون کے دہشت گرد حملے کو 20 سال ہوگئے اور افغانستان سے حالیہ امریکی فوجی انخلاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ مؤثر انداز میں ختم کی جو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے نائن الیون کے جواب میں شروع کی تھی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا جائزہ لینے کا درست وقت ہے جسے مختصراً جی ڈبلیو او ٹی کہا جاتا ہے۔
وہ پاکستانی یا کینیڈین مسلمان جو نائن الیون حملوں کے وقت کیلگری یا البرٹا میں کام کر رہا تھا یا پھر دیگر غیر مسلم ممالک میں بسنے والے بیشتر مسلمانوں کیلئے نائن الیون کے بعد ایک خوفناک اور غیر یقینی دور شروع ہوا۔ غیر مسلم کینیڈینز کی جانب سے مسلم کینیڈین شہریوں کیلئے جو ردِ عمل محسوس کیا گیا، وہ شاید امریکا میں ہمارے مسلم بھائی بہنوں کے مقابلے میں اس سطح پر نہیں تھا، اور عوامی مقامات پر حجاب پہننے والی مسلم خواتین کیلئے یہ تعصب بطورِ خاص برتا گیا۔
جہاں میں کام کرتا تھا، ان لوگوں نے مجھے جلدی کام چھوڑنے کی اجازت دے دی، اس لیے میں اور میرا بھائی معمول کے مطابق روایتی انداز سے گھر جانے لگے لیکن کیلگری سے ہمارے گھر تک وہ 30 منٹ انتہائی مشکل گزرے کیونکہ ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم گھر پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں۔ بس میں سوار دیگر مسافروں کے ردِ عمل کا سامنا بھی ہوسکتا ھتا۔ جیسے ہی ہم گھر پہنچے تو میں نے سکون محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بحفاظت منزل تک پہنچنے میں مدد فراہم کی ہے۔
نائن الیون کے بعد کے ابتدائی دنوں میں مجھے شدید خوف لاحق رہا کیونکہ کارپوریٹ میڈا مسلم مخالف جذبات کو ہوا دے رہا تھا جو مسلمانوں سے نائن الیون کا انتقام لینا چاہتے تھے۔ مجھ پر دو حملے ہوئے، اول مسلمان ہونے کی وجہ سے اور دوم پاکستانی ہونے کی وجہ سے کیونکہ میڈیا کی توجہ طالبان، القاعدہ اور پاکستان پر تھی۔ نائن الیون حملوں میں کسی افغان یا پاکستانی کے براہِ راست ملوث ہونے کے الزام پر مجھے بطور مسلمان اور پاکستانی فخر محسوس ہونے میں مشکل اور بعض اوقات شرم محسوس ہوئی۔
دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا اور نائن الیون کے بعد مجھے اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہوا۔ کیا میں کینیڈین، پاکستانی، مسلمان یا کینیڈین مسلمان تھا؟ اس سوال کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اسلام، قرآن اور سنت کا بہت قریب سے مطالعہ کیا تاکہ اسلام کی حقیقی روح اور بہتر تفہیم سامنے لائی جائے، نہ کہ ہم صرف پاکستانی ثقافت اورحنفی مکتبۂ فکر کے نقطۂ نظر سے ہی اسلامی شریعت کو دیکھنے لگیں۔ میں نے علامہ اقبال اور بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کے افکار اور تقاریر کا دوبارہ جائزہ لیا اور پھر میں قائدِ اعظم کا زندگی بھر کا طالبِ علم اور سرشار سپاہی بن گیا۔
میڈیا اسلام اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔ میری ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی اس سے نقصان پہنچا کیونکہ میں ہمیشہ اسلام اور پاکستان دونوں کیلئے محبت کے متعلق حساس رہا ہوں۔ میں نے جنوری 2004 میں اس وقت تک کی پوری زندگی کینیڈا میں گزارنے کے باوجود پاکستان آمد کا فیصلہ کیا جس پر الحمدللہ مجھے کوئی افسوس نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے روحانی و مادی طور پر مالا مال کرکے مجھ پر زبردست رحم و کرم فرمایا۔
قبل ازیں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ 2001 میں ہی شروع ہوچکی تھی جس نے مغربی جمہوریتوں کی منافقت بے نقاب کرڈالی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ منافقت مسلمانوں اور مسلم ممالک میں بھی موجود ہے۔ مغرب خود کو جدید، مہذب اور ہمدرد کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ اسلامی معاشروں کو وحشی اور پسماندہ قرار دیتا ہے۔ میں سب کو یاد دلانا چاہوں گا کہ امریکا پر نائن الیون حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار کے لگ بھگ تھیج لیکن جواباً دہشت گردی کے خلاف جو عالمی جنگ شروع کی گئی، براؤن یونیورسٹی کے کوسٹ آف وار پراجیکٹ کے مطابق اس جنگ میں 2 دہائیوں میں کم و بیش 10 لاکھ افراد کی جانیں لی گئیں۔ کیا مغربی دنیا اسی انسانیت، انصاف پسندی اور ہمدردی کی تبلیغ کرتی ہے؟ کیا یہ دہشت گردی کا مناسب ردِ عمل تھا یا خون کی پیاس اور انتقامی جذبات کی تسکین؟ زیادہ تر جاں بحق ہونے والے افراد مسلمان اور عام لوگ تھے جن کا نائن الیون حملوں سے تعلق آج تک ثابت نہیں ہوسکا۔
امریکا اور اتحادی ممالک نے 2 ممالک کو جھوٹ بول کر حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ افغانستان اور عراق سے نائن الیون کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر امریکا اور مغرب کو انصاف کی ضرورت تھی تو غیر سرکاری اداروں پر حملے کیوں کیے گئے؟ سعودی، متحدہ عرب امارات، لبنانی اور مصری نژاد افراد کو کیوں مارا گیا؟ نائن الیون کی منصوبہ بندی امریکا کے اندر بھی ہوئی تھی۔ انصاف کے حصول کا واحد طریقہ یہ تھا کہ ملزمان کو پکڑا جاتا۔ امریکا اور اس کے اتحادی نائن الیون حملہ آوروں کے معاونین اور مددگاروں کو کیوں نہ پکڑ سکے؟ افغانستان اور عراق پر حملے کی بجائے ملزمان کو مقدمے کی سماعت میں کیوں پیش نہ کیا جاسکا؟ خطے میں دہشت گردی کی جنگ سے عدم استحکام آیا۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ امریکا کو دہشت گردی کے خلاف انصاف کے حصول میں کبھی دلچسپی نہیں تھی بلکہ جنگیں فوجی صنعتی کمپلیکس کو خون کی کمک مہیا کرنے کیلئے لڑی گئیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 21 کھرب ڈالر جھونک دئیے جن میں سے 16 کھرب فوج کو دئیے گئے۔ 7.2 امریکی فوجی ٹھیکیداروں کو جو جنگ کے بڑے فاتح قرار پائے۔
محسوس ایسا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جنگ کیلئے ایک ڈھال کے طور پر شروع کی گئی۔ جنگ میں زیادہ تر مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ دنیا کے 2 ارب مسلمانوں کو غیر مسلموں کیلئے خطرہ قرار دے دیا گیا جن سے تہذیب کی جنگ الگ لڑی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ہر ملک کو اپنی مسلم اقلیتی آبادی پر ظلم ڈھانے کا موقع فراہم کردیا۔ 20 سال میں ہم نے دیکھا کہ امریکا جیسے ممالک نے پیٹریاٹ ایکٹ کی صورت میں سخت قوانین منظور کیے جو شہری آزادیوں کو محدود کرتے تھے اور مسلمانوں اور مسلم نظر آنے والے گروہوں کے خلاف تشدد میں اضافہ کرتے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا بھی محسوس کیا۔ نیو یارک یونیورسٹی لاء ریویو کے اپریل 2020 کے مضمون میں وین اسٹیٹ یونیورسٹی میں قانون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد اے بیڈون نے بہت خوب لکھا کہ ایک جغرافیائی و سیاسی منظر نامے کے درمیان امریکا نے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی طرف دھکیلا اور اس دوران 3 صدور گزر گئے۔ حکومت نے مسلم اقلیتی آبادی کو قومی مفادات کیلئے رکاوٹ سمجھتے ہوئے ان پر من مرضی کی پالیسیاں مسلط کیں۔ نومبر 2016 میں امریکی عوام نے اسلامی بنیاد پرست دہشت گردی جیسے نعرے لگا کر مسلمانوں کی امیگریشن پر پابندی لگانے کا وعدہ کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا صدر منتخب کر لیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے ورلڈ آرڈر میں فاتحین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے بین الاقوامی سیاست پر غلبہ حاصل کیا اور 1991 میں سابق سوویت یونین خاتمے کے بعد سے امریکا سپر پاور بن کر دنیا کی تھانیداری کرنے لگا۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی دنیا کے تھانیدار ہی بننا چاہتے ہیں تو انہیں فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر اور روہنگیا جیسے بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں میرے جیسے بہت سے مسلمان دیگر افراد کے ظلم اور اپنی ہی سرزمین پر غیر قانونی قبضے جیسے مسائل کے حل کیلئے انصاف چاہتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی برادری ایک طرف تو حق و صداقت کے گن گاتی نظر آتی ہے اور دوسری جانب جب فلسطین اور مقبوضہ کشمیر پر قبضے اور ظلم کے خلاف بات کی جاتی ہے تو دنیا حریت پسندوں کو جنگجو اور دہشت گرد قرار دے دیتی ہے۔ کیوں؟ مشہور امریکی شہری حقوق کے رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امن کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقیقی امن صرف تناؤ کی عدم موجودگی کو نہیں کہتے بلکہ یہ انصاف کی موجودگی ہوتی ہے۔ انصاف کے بغیرامن قائم نہیں ہوسکتا۔
نام نہاد دہشت گردی کے خلاف مکمل جنگ کے دوران ہمارے بیشتر مسلم رہنما بھی اقتدار سے محرومی کے خوف یا افغانستان سے بمباری کے خطرے کے باعث امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سہولیات فراہم کرتے رہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس در میں شاید ہی کوئی مسلم رہنما مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے کھڑا ہوا جس نے اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی ہو۔ کم از کم کچھ رہنما یہ کرسکتے تھے کہ اپنی آواز استعمال کریں اور مسلمانوں کے حق میں بات کی جائے۔ مغرب خلاف اعلانِ جنگ کی وکالت مقصود نہیں تاہم وزیر اعظم عمران خان رسول اللہ ﷺ کی توہین کو آزادئ اظہارِ رائے قرار دینے والے اسلاموفوبیا کے سخت مخالف ہیں۔
اگر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حتمی اسکور کارڈ دیکھا جائے تو امریکا اور اتحادی ممالک فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے القاعدہ اور اسامہ کو ختم کردیا جس کی قیمت انہوں نے 21 کھرب امریکی ڈالرز کی صورت میں ادا کی۔ نائن الیون حملوں کے نتیجے میں بیشتر مغربی ممالک کی سیاسی قیادت نے شہر آزادی محدود کرنے کیلئے پیٹریاٹ ایکٹ جیسے سخت قوانین کی پاسداری کی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نام پر اپنی جمہوریتیں ہی تباہ کر ڈالیں۔
دسمبر 2019ء میں واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے افغانستان پیپرز کا اجراء امریکی عوام پر بجلی بن کر گرنا چاہئے تھا کہ ان کی حکومت اور فوج نے 20 سال تک کس طرح اپنے ہم وطنوں کو دھوکا دیا۔ منتخب لیڈروں کی ایسی بدعنوانی عموماً جمہوریت پر گہری بداعتمادی کاباعث بنتی ہے کیونکہ مرحوم امریکی سینیٹر ایڈورڈ کینیڈیا کا کہنا تھا کہ دیانت جمہوریت کی جان جبکہ دھوکا اس کی رگوں میں زہر کی مانند ہے۔
مجھے یقین ہے کہ نائن الیون کے حملوں سے ہمیں یہ سیکھنے کا موقع ملا کہ فوجی مہم جوئی میں حصہ لینے کی کوشش کرنے پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کیلئے زیادہ تنقیدی اور مستعد رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ نیز عالمِ انسانیت کو باہمی افہام و تفہیم اور ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے بہتر کام کی ضرورت ہے۔ عظیم امریکی مسلمان میلکم ایکس کہا کرتے تھے کہ ہمیں ایک دوسرے کے متعلق زیادہ روشنی کی ضرورت ہے۔ روشنی تفہیم پیدا کرتی ہے۔ سمجھ محبت پیدا کرتی ہے، محبت صبر پیدا کرتی ہے اور صبر اتحاد کو جنم دیتا ہے۔