تعلیمی اداروں میں عشق لڑانے کی اجازت نہیں! میں منٹو نہیں ہوں کے تنازع کے بعد جامعات میں ڈراموں کی شوٹنگ پر پابندی

تازہ ترین

تازہ ترین

No more ‘lovers’ spots’: Universities ban filming after ‘Main Manto Nahi Hoon’ controversy
ONLINE

لاہور: ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں کے بعد پیدا ہونے والے شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں لاہور کی مختلف جامعات نے اپنے کیمپسز میں ڈراموں اور ویڈیوز کی شوٹنگ پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈرامے میں دکھائے گئے استاد اور طالبہ کے درمیان تعلقات کے موضوع کو ناظرین نے غیر اخلاقی، غیر مناسب اور تعلیمی اداروں کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اپنے پروگرام کیا ڈرامہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی۔

ان کے مطابق انہوں نے لاہور کے اپنے حالیہ دورے کے دوران یہ جانا کہ مختلف جامعات نے میں منٹو نہیں ہوں میں دکھائے گئے مناظر پر عوامی غصے کے بعد ایسے تمام پروجیکٹس پر پابندی لگا دی ہے جو اداروں کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ متعلقہ یونیورسٹی کو اس ڈرامے میں غیر مہذب مواد دکھانے پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دیگر جامعات نے بھی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

 

اطلاعات کے مطابق آئندہ کسی بھی ڈرامے یا فلم کی شوٹنگ کی اجازت سے قبل ادارے اسکرپٹ کا مکمل جائزہ لینے اور اس کی اخلاقی مطابقت کو یقینی بنانے کے لیے نئی پالیسی وضع کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، جہاں بیشتر صارفین نے اسے باوقار اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے علم و تحقیق کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ فلم بندی یا رومانوی مناظر کی عکاسی کے لیے۔

متعدد ناظرین نے ڈرامے کے اس تصور کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ ایک پروفیسر کو اپنی شاگردہ سے شادی پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ کچھ افراد نے کہا کہ اگرچہ اس نوعیت کے تعلقات حقیقی زندگی میں کہیں کہیں پائے جاتے ہیں، تاہم ان کا ڈراموں میں نمایاں طور پر دکھایا جانا معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

عوامی رائے کا عمومی رخ یہی ہے کہ تخلیقی آزادی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن جب حقیقی تعلیمی اداروں کو پس منظر کے طور پر استعمال کیا جائے تو ذمہ داری اور احتیاط کو لازمی طور پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔

Related Posts