قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائمز

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف ہمہ جہت جامع آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں کیا گیا جب کہ اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل شمشاد مرزا نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ ملک کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ بھی کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں این ایس سی کی جانب سے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف نئے جوش اور عزم کے ساتھ ایک جامع آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ وقت کی ضرورت ہے۔

امید ہے کہ این ایس سی کے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور بغیر کسی سمجھوتے کے تمام عسکریت پسند تنظیموں کو مکمل طور پر کچلنے کے لیے آپریشن جلد شروع کیا جائے گا تاکہ دہشت گردی کی لعنت کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔دہشت گردی کے علاوہ، اسٹریٹ کرائمز میں بھی ملک بھر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کراچی جیسے شہر میں۔ اسٹریٹ کرائمز میں شہریوں کو نہ صرف نقدی اور موبائل فون سے محروم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں بے دردی سے قتل بھی کیا جاتا ہے۔

ملک بھر میں اسٹریٹ کرائمز کے دوران آئے روز متعدد افراد اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، لہٰذا حکومت اس مسئلے کی طرف بھی توجہ دے اور اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کرے۔ اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے ملک کو محکمہ پولیس اور عدلیہ دونوں میں بھی جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔دونوں اداروں میں اصلاحات کے بغیر اسٹریٹ کرائمز پر موثر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

Related Posts