ایک مِس کال اور بینک اکاؤنٹ خالی؟ خطرناک کالز کا نیا جال بے نقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کویت میں حالیہ دنوں ایک نیا اور خطرناک رجحان سامنے آیا ہے جس نے شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جہاں بظاہر عام نظر آنے والی بین الاقوامی کالز دراصل ایک بڑے سائبر فراڈ کا حصہ نکل رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں مشتبہ غیر ملکی کالز کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے جو ایک منظم عالمی دھوکہ دہی مہم سے جڑی ہوئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کالز کا انداز کچھ یوں ہوتا ہے کہ صرف ایک گھنٹی بجتی ہے اور فوراً کال منقطع ہو جاتی ہے جسے عالمی سطح پر وانگیری اسکیم (Wangiri Scam) کہا جاتا ہے یعنی ایک رنگ دے کر کال کاٹ دینا۔

یہ فراڈ کرنے والے خودکار کالنگ سسٹمز کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کو کال کرتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شخص کال اٹھاتا ہے یا واپس کال کرتا ہے اسے مہنگے انٹرنیشنل نمبرز پر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں فی منٹ انتہائی زیادہ چارجز لگتے ہیں اور متاثرہ فرد کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا۔

یہ اسکیم مختلف طریقوں سے عمل میں لائی جاتی ہے جن میں متاثرہ شخص کو وائس میسجز یا خودکار سسٹمز کے ذریعے لائن پر زیادہ دیر تک مصروف رکھنا شامل ہے جس کے نتیجے میں بھاری مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ان کالز کا مقصد صارف کی آواز ریکارڈ کرنا بھی ہوتا ہے جسے بعد میں جعلی ٹرانزیکشنز یا کسی سروس کی منظوری جیسے دیگر فراڈز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق کچھ فراڈ نیٹ ورکس اس کے بعد جعلی لنکس پر مشتمل ٹیکسٹ پیغامات بھی بھیجتے ہیں جن میں پارسل ڈیلیوری، اکاؤنٹ اپڈیٹ یا دیگر معلومات کے نام پر صارف کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ ایسے لنکس پر کلک کرنے سے موبائل ہیک ہونے یا ذاتی معلومات چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کالز کے نمبرز بظاہر قریبی ممالک کے دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں ان کا تعلق اکثر بحرالکاہل کے جزائر، افریقی خطوں یا مشرقی یورپ سے ہوتا ہے۔

سیکیورٹی حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم غیر ملکی نمبرز سے آنے والی کالز کا جواب دینے سے گریز کریں خاص طور پر اگر ان ممالک میں ان کے جاننے والے موجود نہ ہوں۔ ایک گھنٹی کے بعد بند ہونے والی کالز کو نظر انداز کریں مشکوک لنکس پر ہرگز کلک نہ کریں اور ایسے نمبرز کو فوری طور پر بلاک کر دیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

Related Posts