تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جیل بھرو تحریک کا اعلان فرمایا ہے۔ اس اعلان کی نسبت سے مضحکہ خیز پہلو انہی عمران خان کا ہے جو پچھلے سال گرفتاری کے خوف سے خیبرپختونخوا ہجرت کرگئے تھے اور جنہوں نے اب بھی اپنی گرفتاری کے محض امکان پر درجنوں ورکرز کو اپنے زمان پارک والے گھر پر شفٹوں میں چوکیدرا لگوا رکھا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ وہی پی ٹی آئی ہے جس کے فواد چوہدری نے گرفتاری والے روز خود کو نیلسن منڈیلا قرار دیا تھا مگر محض چار دن بعد رہا ہوئے تو ان کے لئے گریہ ضبط کرنا دشوار ہورہا تھا۔
بات کسی ایک آدھ کی ہوتی تو کسی ایک کی بشری کمزوری سمجھ کر نظر انداز بھی کردی جاتی۔ مگر اعظم سواتی، شہباز گل، شیخ رشید احمد، عمران ریاض اور جمیل فاروقی سب کے سب وہی ہیں جن کا حراست پر باقاعدہ گریہ ریکارڈ ہی نہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی حصہ بن گیا ہے۔ رونے دھونے کے اس عمل میں جس طرح کی ہمہ گیری و تواتر پایا گیا اس سے تو لگتا ہے کہ عمران خان نے “میں ان کو رلاؤں گا” والی بڑھک انہی کے لئے ماری تھی۔ مگر فی الحقیقت یہ غرور کا سرنیچا جیسے قول زریں کی تصدیق ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب دوبارہ گرفتاری کے محض امکان پر شہباز گل لاہور کے سروسز ہسپتال میں جا لیٹے تھے اور جب پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کا قصہ تمام ہوا تو یہ وہاں سے کھسک لئے۔ ادھر پشاور سے بھی اطلاعات تھیں کہ اس کے ریسرورانوں پر اجنبی پنجابی گاہکوں کی غیر معمولی تعداد نوٹ کی جا رہی ہے۔ ایک پشاوری ویٹر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا،
“پرانے وقتوں میں خیبر پختون خوا میں ایک علاقہ غیر ہوا کرتا تھا جہاں مفرور روپوش ہوا کرتے تھے۔ اب تو پورا خیبر پختون خوا وہ علاقہ غیر بن گیا ہے جہاں پی ٹی آئی کے مفرور پناہ لئے ہوئے ہیں”
شنید ہے کہ خیبرپختون خوا اسمبلی ٹوٹنے کے بعد سے پی ٹی آئی کے سیاسی مفرور اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پائے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ سیاسی جماعت نہیں۔ یہ تو سیاسی عزائم رکھنے والے جرنیلوں کا وہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہے جو ان دنوں لاوارث ہے۔ یہ سیاسی شعور نہ ہونے کے سبب اتنا بھی نہیں جانتے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان وفاق کی براہ راست ماتحتی میں ہیں۔ وفاقی اداروں کے لئے وہاں سے گرفتاریاں کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
اگر مان بھی لیں کہ جیل بھرو تحریک واقعی شروع ہوگی۔ اور عمران خان کی کال پر یوتھیے اس تحریک میں حصہ بھی لیں گے تو سیاسی تجزیہ کاروں کے لئے اولین سوال یہ بنتا ہے کہ گرفتاری دینے والوں کی ممکنہ تعداد کیا ہوسکتی ہے؟اندازہ لگانے کے لئے پی ٹی آئی کی آخری تین عوامی سرگرمیوں کے شرکاء کی تعداد پیش نظر رکھنی ہوگی اور اس تعداد میں سے 99 فیصد کو منفی کرکے جو تعداد بچے گی وہ گرفتاریاں دینے والوں کی ممکنہ تعداد ہوسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی آخری تین عوامی سرگرمیوں میں سب سے بڑی سرگرمی تو وہ لانگ مارچ ہے جو آخر میں ایک کنٹینر اور چھ کاروں پر مشتمل رہ گیا تھا۔ اس کے بعد 26 نومبر 2022ء کو پنڈی میں منعقدہ جلسے کا نمبر آتا ہے جس کا پنڈال صرف 4 فرلانگ پر مشتمل شاہراہ تھی۔ جبکہ آخری سرگرمی لاہور میں صوبائی الیکشن کمیشن آفس پر مظاہرہ تھا جس کے شرکاء کی تعداد دو سے ڈھائی سو بتائی گئی تھی۔
سیاسی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جیل بھرو تحریکیں وہی جماعتیں کامیابی سے چلا پاتی ہیں جن کا سیاسی موقف جاندار ہو اور انہیں حکومت وقت پر اخلاقی برتری حاصل ہو۔ ایک ایسی جماعت کی جیل بھرو تحریک سے حکومت کسی دباؤ میں کیوں آئے گی جس کا سیاسی موقف یوٹرنوں سے اس حد تک عبارت ہو کہ صرف پی ٹی آئی حکومت گرائے جانے پر پہلا موقف یہ رہا ہو کہ وہ حکومت جو بائیڈن نے گرائی تھی اور آخری موقف یہ کہ وہ حکومت محسن نقوی نے گرائی تھی۔ جہاں تک اخلاقی برتری کا تعلق ہے تو فارن فنڈنگ سے لے کر گھڑی چوری تک کے الزامات اور بنی گالہ سے لے کر کالاباغ تک پھیلی آڈیو لیکس یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ اس جماعت اور اس کے سربراہ کی اخلاقی حالت کہاں کھڑی ہے۔
جیل بھرو تحریک ہمارے ہاں بس ایک سیاسی فیشن کا ہی درجہ رکھتی ہے۔ آج گرفتاری ہوئی اور کل رہائی۔ مگر پی ٹی آئی کے کیس میں ہمارا موجودہ حکومت کو مشورہ ہے کہ اگر کوئی بھولا بھٹکا یوتھیا گرفتاری دینے آ بھی جائے تو پہلی فرصت میں اس کے موبائل کا فرانزک ٹیسٹ کروا لیا جائے۔ انشاءاللہ سائبر کرائم کا مضبوط مقدمہ قائم کرکے باقاعدہ سزا دلوانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔ اس حکمت عملی میں یوتھیے کی جیل آمد تو سیاسی ورکر کے طور پر ہوگی مگر روانگی سزا یافتہ سائبر مجرم کے طور پر۔ اور اگر حکومت کسی بھولے بھٹکے یوتھیے کو آنے سے ہی روکنا چاہے تو پھر ابھی سے اعلان کردے کہ آنے والا اپنے موبائل فون سمیت آئے ورنہ گرفتاری دینے والے کو تب تک چھوڑا نہ جائے گا جب تک اس کا موبائل فون پولیس تحویل میں نہ آجائے۔
ہم اتنی بھی جانبداری نہیں برت سکتے کہ صرف حکومت وقت کو ہی مفت مشورے دیں۔ حضرت نواب آف کالا باغ کے لئے بھی ہمارے پاس ایک مفت مشورہ ہے اور وہ یہ کہ حضور جب شوق نوابوں والے ہوں تیور سیاستدانوں والے نہیں رکھا کرتے۔ اس سے شرمساری کا ہی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شکر نہیں فرماتے کہ معاملہ اب تک آڈیو لیکس پر ہی موقوف ہے ؟ فلمیں ریلیز کروانا ضروری ہے کیا ؟ حیرت ہے گھڑیاں آپ اکیلے ڈکار گئے اور گرفتاری میں بیچارے یوتھیے کو بھی شریک فرما رہے ہیں۔ کیا فارن فنڈنگ اور اور گھڑیوں کی آمدنی میں ان معصوموں کا حصہ تھا ؟ کھیر صرف خاندان میں بانٹی اور چھتر کھانے کا وقت آیا تو یوتھیے کو آگے کرنے لگے ہیں ؟ لیکن پھر بھی اگر آپ اپنا جیل بھرو تحریک والا شوق پورا کرنا چاہیں تو وللہ اس کار خیر کا آغاز فواد چوہدری، شہباز گل اور اعظم سواتی سے کروایئے گا۔ ان کے افتتاحی گریے اس تحریک کو چار نہیں تو پونے چار چاند تو لگا ہی دیں گے !
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں