قومی مفادات پر ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح نہ دی جائے

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں اوربلیک لسٹ ہونے سے بچنے کیلئے پوری طرح متحر ک ہے اور قانون سازی کے حوالے سے بھرپور کوشش کی جارہی ہے لیکن اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ میں دو بل مسترد کئے جانے کے بعد حکومتی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان مایوسی کا اظہار کررہے ہیں، اس ایف اے ٹی ایف سے متعلق بل میں منی لانڈرنگ روکنے کے حوالے سے اقدام شامل تھے۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کو کوئی این آر او فراہم نہیں کریں گے اور حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوششیں لامحالہ ناکام ہوجائیں گی۔ انہوں نے اپوزیشن پر محض اپنی بدعنوانی کے تحفظ کیلئے قومی مفادات نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

حزب اختلاف نے اس قانون میں متعدد ترامیم کی تجویز پیش کی تھیں جنہیں حکومت نے مسترد کردیا تھا۔ اس میں نیب کے اختیارات کو پانچ سال سے زیادہ کے مقدمات کی چھان بین سے روکنا ، منی لانڈرنگ کوقابل اعتنا جرم کے طور پر ختم کرنا اور نیب کے دائرہ کار سے ایک ارب روپے کے بدعنوانی کے الزامات کو ختم کرناشامل ہے۔

یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ حزب اختلاف ایف اے ٹی ایف کو نیب کے قوانین سے جوڑ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ماضی میں نیب کو سیاسی طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی مراعات دی گئیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیب کولپیٹ دیا جائے۔

مجوزہ قانون سازی میں وقف املاک ،مساجد اور مزارات کو حکومت کے براہ راست کنٹرول میں رکھنے سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں کیونکہ مدارس کو ملنے والے عطیات اور اعانت کا اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے، حکومت کو پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے قوانین کے حوالے سے متعلقہ کمیٹیوں میں بحث یقینی بنانی چاہیے۔

وزیر اعظم کاکہنا ہے کہ سیاسی کشمش سے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا جارہا ہےاور اس رسہ کشی نے احتساب کے خلاف تحریک انصاف کی اپنی مہم کو بھی متاثر کیا جس کی بناء پر عمران خان کو اقتدار ملا۔

اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی میں  رخنہ ڈال کر قومی مفادات سے ٹکراؤ کے بجائے حکومت سے حل طلب مسائل پر بات کرے اور یہ ضروری ہے کہ ملک میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لئے وسیع تر قومی مفادات پر ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترک کیا جائے۔

Related Posts