الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے خلاف سخت مزاحمت اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کرنے کی وجہ سے حکومت کی حالیہ پریشانیوں نے پی ڈی ایم کو دوبارہ فعال کرنے کی امیدیں جگادی ہیں اور اس مقصد کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف اپنی حکمت عملی کی تجدید کے لیے قریبی رابطہ کاری شروع کر دی ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات کو کثیر الجماعتی اتحاد کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان جمودتوڑنے کے حوالے سے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ پی پی پی نے اس سال اپریل میں پی ڈی ایم سے یہ کہتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی تھی کہ وہ کسی دوسری پارٹی سے ڈکٹیشن نہیں لے گی۔
پیپلزپارٹی کی دستبرداری نے ان تمام امیدوں کو کم کر دیا تھا جن کی وجہ سے ایسا لگتا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے لیے ایک حقیقی چیلنج بن سکتی ہے جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حالیہ تعلقات مبینہ طور پر حکومت کے خاتمے کیلئے بیک ڈور بات چیت کا باعث بنے۔
حکومت مخالف حکمت عملی کے تحت پی ڈی ایم لاہور میں سیاسی اجتماع کے بعد تمام صوبوں میں لانگ مارچ کرے گی۔ یہ ابھی تک غیر یقینی ہے کہ آیا پیپلزپارٹی رسمی طور پر پی ڈی ایم میں دوبارہ شامل ہو گی یا نہیں لیکن کسی بھی قسم کی حمایت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو فروغ دے سکتی ہے۔
ان مظاہروں کا حکومت پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے لیکن حکومت کے حالیہ چیلنجز نے یقیناً اپوزیشن کو حوصلہ دیا ہے۔ارکان کی مطلوبہ تعداد برقرار رکھنے کی جدوجہد اور اتحادیوں کے تحفظات کی وجہ سے پریشان حکومت کو اس ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
حکومت اپنا تیسرا سال عبور کر چکی ہے اور اب انتخابی اصلاحات سمیت اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے تاہم حکومت کیلئے اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن کو یہ باور کرانا ایک مشکل کام ہے کہ اصلاحات ملک کے مفاد میں ہیں۔
رکاوٹوں کے باوجود اگر حکومت انتخابی اصلاحات کو منظور کرنا چاہتی ہے تو اپوزیشن کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ اسے اس کے اپنے اتحادیوں نے کمزور کر دیا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ایشوز پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے ورنہ اپوزیشن کو حکومت کے خلاف تحریک کا جواز مل سکتا ہے۔