حکومتوں کو اپنی مدت کے آخری مرحلے میں اکثر سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ عوام انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے ان کے دعوؤں کو انہیں یاد دلاتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی معاشی صورتحال کو جواز بنا کر تحریک انصاف حکومت کے خلاف متحد ہوکر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ ایک حیرت انگیز منظر تھا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مل کر وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے پر اتفاق کیا۔ پی پی پی کے اسمبلیوں سے بڑے پیمانے پر استعفوں اور فیصلہ کن لانگ مارچ کے انعقاد میں ناکامی کے معاملے پر پی ڈی ایم اتحاد چھوڑنے کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ شاید یہ حکومت کو ہٹانے میں ناکامی پر مایوسی تھی جس نے انہیں دوبارہ قریب کیا ہے۔
شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ایک مشترکہ مقصد کے لیے منعقد کی گئی ظہرانے کی تقریب سے دونوں جانب جمی برف پگھل گئی، دونوں جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک لانے میں سنجیدہ نظر آتی ہیں۔ لیکن اس بار بالکل مختلف کیا ہے؟ اپوزیشن شاید پی ٹی آئی کے ناراض اتحادیوں کی حمایت پر انحصار کر رہی ہے یا یہ توقع کر رہی ہے کہ حکومت کو وہ حمایت حاصل نہیں ہوگی جو اسے پچھلی بار حاصل تھی۔
پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے اسلام آباد پر الگ الگ لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی اختلاف ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کردار ابھی تک واضح نہیں ہے اور حکمت عملی تیار ہونا باقی ہے۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ نواز شریف نے عدم اعتماد کے منصوبے کو گرین سگنل دے دیا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں تمام قانونی اور آئینی آپشنز استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
حکومت اس ملاقات پر بے فکر نظر آتی ہے۔ اپوزیشن کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اکثریت ہونے کے باوجود بل منظور کر لیے گئے۔ گزشتہ سال وزیراعظم کو معزول کرنے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی ناکامی نے دھچکا لگا یا۔ عوام، جو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں، اپوزیشن کے اس اقدام پر عدم دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔
شاید یہی وقت ہے جس نے اپوزیشن کو اکٹھا کر دیا ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حالیہ کامیابیوں کے بعد پارٹیاں پرجوش ہیں اور اس رفتار کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں، اندرون ملک تبدیلی پر زور دینے کا امکان بہت کم ہے۔ اپوزیشن اگلے انتخابات سے پہلے اپنے آپ کو دوبارہ متحرک اور اس حکومت سے جان چھڑانا چاہتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات بھی ہیں۔