عثمان دیمبیلے کیلئے دنیائے فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز

تازہ ترین

تازہ ترین

Ousmane Dembélé Receives Football’s Highest Honor
ONLINE

برسوں پہلے جب عثمان دیمبیلے نامی نوجوان نے عالمی فٹ بال کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانا شروع کیے تو ہم نے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اس کے پیچھے صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ ماں کی دعاؤں کی تاثیر بھی شامل ہے۔ آج وقت نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ دنیائے فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز، بالون ڈی اور (Ballon d’Or)، عثمان کے سر پر سجا دیا گیا۔

عثمان نام ہی محبت اور الفت کا استعارہ ہے۔ اس نوجوان کی اپنی ماں سے تعلق کی گہرائی دیکھئے کہ اس نے اپنے نام کے ساتھ “دیمبیلے” کا لاحقہ بھی ماں کی نسبت سے جوڑا۔

عام طور پر بچے باپ کا نام اپناتے ہیں، مگر عثمان نے ماں کے قبیلے کو اپنی پہچان بنایا۔ اس کی والدہ موریطانیہ سے تعلق رکھتی ہیں اور “دیمبیلے” قبیلے کی چشم وچراغ ہیں، جبکہ والد مالی نژاد ہیں۔ مگر عثمان نے اپنی پہچان ماں سے جڑی اور آج دنیا بھر میں وہ اسی نسبت سے پہچانا جاتا ہے۔

کیا واقعی سعودیہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر حوثیوں نے پاکستان کیخلاف اعلان جنگ کردیا؟

واضح رہے کہ فرانس کے نامور کھلاڑی عثمان دیمبیلے کا شمار ان چند فٹبالرز میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمری میں اپنی تیز رفتاری، ڈرِبلنگ اور غیر معمولی تکنیک سے دنیا کو حیران کیا۔ 15 مئی 1997 کو فرانسیسی شہر ورنون میں پیدا ہونے والے دیمبیلے کا تعلق موریطانیہ اور مالی نژاد افریقی گھرانے سے تھا۔ چھوٹی عمر سے ہی اس نے محلے کی گلیوں اور کھلے میدانوں میں گیند کو قابو میں رکھنے کا ایسا فن سیکھا جو بعد میں اس کی پہچان بن گیا۔

گزشتہ شب پیرس کے قدیم تھیٹر میں جب 2025ء کی بالون ڈی اور تقریب اپنے عروج پر پہنچی تو دنیا بھر کے شائقینِ فٹبال کی نظریں ایک لمحے پر مرکوز تھیں۔ برازیلی لیجنڈ رونالدینیو اسٹیج پر موجود تھے۔

سب کے دل دھڑک رہے تھے کہ اعلان کس کے نام ہوگا۔ جیسے ہی رونالدینیو کی مسکراہٹ کے ساتھ عثمان دیمبیلے کا نام گونجا، ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ یہ لمحہ محض ایک ایوارڈ کا اعلان نہ تھا، یہ ایک خواب کی تعبیر تھی۔ یہ ان گلیوں کے بچوں کے لیے روشنی کا مینار تھا جن کے پاؤں میں جوتے نہیں مگر دل میں کھیلنے کا جنون ہے۔

یہ جیت صرف عثمان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ مغربی افریقہ کی مٹی میں صدیوں سے بوئے گئے خوابوں کی سرسبز شاخ ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام اور افریقہ کی عظیم روایات رکھنے والا نوجوان آج دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اعزاز کا علمبردار ہے۔

اس جیت کو مزید تاریخی بنانے والی بات یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بالون ڈی اور کے بڑے امیدوار دونوں مسلمان تھے۔ ایک طرف عثمان دیمبیلے اور دوسری طرف بارسلونا کا کمسن ستارہ لامین جمال۔ اگرچہ لامین جمال کو “کوبا ٹرافی” برائے بہترین نوجوان کھلاڑی سے نوازا گیا، مگر سب سے بڑا تاج عثمان کے سر پر سجا۔ یہ منظر مسلم نوجوانوں کے لیے ایک زندہ پیغام تھا کہ ایمان، محنت اور صبر کے ساتھ خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی مسلمان کھلاڑی فٹبال کی بلند ترین چوٹی پر پہنچا ہو۔ اس سے قبل 1995 میں لائبیریا کے جارج ویا، 1998 میں زین الدین زیدان اور 2022 میں فرانس کے کریم بنزیما بھی یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ مگر عثمان دیمبیلے کو یہ فتح ایسے وقت میں ملی ہے جب دنیا کے بڑے میدانوں میں مسلم کھلاڑیوں کی موجودگی پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ آج اشرف حکیمی، محمد صلاح اور لامین جمال جیسے کھلاڑی بھی اسی قافلے کا حصہ ہیں۔

بالون ڈی اور کی مادی قیمت شاید چند ہزار یورو ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سنہری گیند کھلاڑی کے نام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہے۔ یہ ایوارڈ کھیل کے حسن اور فن ہی نہیں بلکہ حوصلے، قربانی اور استقامت کی پہچان ہے۔ جب عثمان دیمبیلے نے اسٹیج پر مائیک تھاما تو اس کی آواز میں شکرگزاری کی نمی تھی۔ اس نے اپنے کلب پیرس سان جیرمان، صدر ناصر الخلیفی اور کوچ لوئیس انریکے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پھر کہاکہ یہ انعام میرا نہیں، یہ میری ٹیم کا ہے۔یہ ایک جملہ ہی اس کے کردار کی اصل تصویر ہے۔

عثمان دیمبیلے کی کامیابی آج مسلم دنیا کے نوجوانوں کے لیے ایک اعلان ہے: ہمیں شکستوں کی راکھ سے نکل کر فتوحات کی نئی صبح تخلیق کرنی ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ تاریکی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، روشنی کی کرن انہی ہاتھوں میں ہے جو محنت اور یقین رکھتے ہیں۔ آج وہ کرن عثمان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ روشنی آنے والی نسلوں تک ضرور پہنچے گی۔

جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Related Posts