وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کاکہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے سیاسی حل میں کردار نبھانے کیلئے پرعزم ہے لیکن بعض افغان عہدیداروں کے بیانات تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہیں۔
معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سیاسی حل کے جذبے کے تحت ہی وزیراعظم نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی، جس پر بعض افغان عہدیداروں کے بیان تعلقات خراب کرنےکی کوشش ہے۔
افغانستان اپنے جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی سازش کا شکار رہا ہے، روس کے بعد امریکا نے افغانستان پر بزور طاقت قبضہ کرنے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ ملک کر 2001 ء میں حملہ کرکے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کیا۔
امریکا نے طاقت کے زور پر افغانستان میں اپنا تسلط تو قائم کرلیا لیکن یہ جنگ امریکا اور اتحادیو ں کیلئے انتہائی اعصاب شکن ثابت ہوئی۔ افغان جنگ میں اربوں ڈالر اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کے بعد امریکا نے طالبان کو ایک سیاسی قوت تسلیم کرکے مذاکرات کی میز پر 29 فروری 2020ء کو ایک تاریخ ساز معاہدہ کرکے امن کی امید بحال کی۔
19 سال کی طویل اور اعصاب شکن جنگ کے بعد امریکا اس بات کا قائل ہوچکا ہے کہ وہ افغان جنگ گولیوں اور بارود سے کبھی نہیں جیت سکتا اس لئے امریکا نے طاقت کا استعمال ترک کرکے مذاکرات کی میز پر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جبکہ اس تمام تر عمل میں پاکستان کا کلیدی کردار رہا ہے۔پاکستان نے افغان طالبان اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں نمایاں کردار کیا اور اس بات چیت کے دوران آنے والے نشیب و فراز میں پاکستان ثابت قدمی سے کھڑا رہا ۔
افغانستان گزشتہ کئی سال سے گاہے بگاہےکبھی پاکستان پر الزام تراشی تو کبھی سرحدی کشیدگی کو ہوا دیکر تعلقات کو کشیدگی کی طرف لے جاتا رہا ہے کیونکہ افغان حکومت اس وقت مکمل طور پر بھارت کے زیر اثر ہے اس لئے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور دیگر حکام پاکستان کی نیک نیتی کے باوجود الزام تراشی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے اور بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہے کیونکہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہوجاتے ہیں تو بھارت کا اثر و رسوخ ختم ہوجائیگا۔
اس وقت سب سے ہم بات تو یہ ہے کہ ماضی کے برعکس افغان طالبان حقیقت میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اوردنیا بھی طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے تیار ہے لیکن افغان حکومت حقیقت سے نظریں چراکر اپنا پورا زور پاکستان پر الزام تراشی پر لگارہی ہے۔
بھارت ایک طرف افغانستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے تو دوسری طرف اپنی ہمنواؤں کے ذریعے پاکستان پر الزام تراشی کرواکر تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اس حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، اب افغان حکومت اور طالبان کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اندرونی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کریں اور پاکستان کیساتھ تعلقات کو مزید کشیدگی میں دھکیلنے کے بجائے اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر نظر رکھی جائے تاکہ بھارت جیسے سازشی عناصر کو موقع نہ مل سکے۔