افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے بعد پاکستان افغانستان میں طاقت کے توازن کو بدلنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سیاسی رابطے شروع کردیے ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی بھارت سے قربت، استنبول میں امن مذاکرات کی ناکامی اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافہ اسلام آباد کی سکیورٹی حکمت عملی میں تبدیلی کے بنیادی عوامل ہیں۔
امریکی نیوز پورٹل نیولائنز کے حوالے سے رپورٹ میں پاکستانی فوجی حکام کے حوالے بتایا گیا ہے کہ اشرف غنی کی حکومت طالبان کے دباؤ کے تحت زوال کے قریب تھی، تو سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید نے ایک خلیجی ملک میں طالبان مخالف مزاحمتی تاجک رہنما احمد مسعود سے خفیہ ملاقات کی اور افغانستان میں ایک جامع حکومت قائم کرنے پر بات کی۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس طالبان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور افغانستان میں سیاسی توازن بدلنے کی فوجی اور انٹیلیجنس صلاحیت موجود ہے، کیونکہ پاکستان نے دہائیوں تک طالبان کو قریب سے دیکھا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے رہنماؤں کو ایک ایک کر کے ختم کر سکتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کو ختم کرنے سے طاقت کا خلا پیدا ہو سکتا ہے اور مہاجرین کی نئی لہر آسکتی ہے، جس کے لیے طالبان مخالف شخصیات کی تیاری ضروری ہے۔
نیولائنز کے مطابق اسی وجہ سے اسلام آباد نے اکتوبر میں افغانستان کے کچھ مخالفین کو دعوت دی اور یاسین ضیاء اور احمد مسعود جیسے افراد سیاسی طور پر دوبارہ منظرِ عام پر آئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے طالبان مخالف نمائندوں سے رابطے کے چینل فعال کر دیے ہیں۔
مزاحمتی تاجک فرنٹ کے رہنما عبد اللہ خنجانی نے کے مطابق ان کی تنظیم پاکستان کے ساتھ بات چیت میں احتیاط برت رہی ہے، کیونکہ ان کے بقول پاکستان کا نظام ہمیشہ مخالفین کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
خنجانی نے کہا کہ کسی بھی تعاون کا انحصار افغانستان کے قومی مفادات پر ہونا چاہیے اور پاکستان کا رویہ بھی ایسا ہونا چاہیے کہ وہ امن و استحکام کا خواہاں بنے۔
نیولائنز کے مطابق اگر پاکستان فیصلہ کرے کہ طالبان مخالفین کی سیاسی، مالی اور فوجی مدد کرے، تو جبهہ مقاومت ملی اور جبهہ آزادی افغانستان کی صورتحال اچانک بدل سکتی ہے اور طالبان حکومت پر ان کے حملے زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان طویل مدتی حمایت فراہم کرے، جیسا کہ پہلے طالبان اور مجاہدین کو مدد دی گئی تھی، تو احمد مسعود اور یاسین ضیا کابل میں طاقت کے مقابلے میں اہم کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








