لیبر فورس سروے 25-2024 کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان میں اوسط اجرتوں میں قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے سرکاری سطح پر ایک مثبت معاشی اشاریہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مہنگائی کی بلند شرح کے باعث اجرتوں میں ہونے والا یہ اضافہ حقیقی قوتِ خرید میں اسی تناسب سے بہتری پیدا نہیں کر سکا۔
ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 21-2020 میں ملک میں اوسط ماہانہ اجرت 24 ہزار 28 روپے تھی، جو بڑھ کر 25-2024 میں 39 ہزار 42 روپے تک جا پہنچی۔
یوں چار برس کے دوران اجرتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 62 فیصد اضافہ سامنے آیا، تاہم اسی عرصے میں مہنگائی کی غیر معمولی رفتار نے اس اضافے کے اثرات کو کمزور کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 22-2021 میں افراطِ زر کی شرح 29 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس کے بعد آنے والے برسوں میں بھی مہنگائی کی بلند سطح برقرار رہی، جس سے روپے کی حقیقی قدر اور قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی۔
تفصیلی تجزیے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اجرتوں میں ہونے والا اضافہ تمام معاشی شعبوں میں یکساں نہیں رہا بلکہ مختلف شعبوں میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق رسمی شعبے میں اوسط ماہانہ اجرت 21-2020 میں 34 ہزار 964 روپے تھی، جو بڑھ کر 25-2024 میں 54 ہزار 38 روپے ہو گئی، جو تقریباً 54.5 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب غیر رسمی شعبے میں، جہاں ملک کی بڑی افرادی قوت روزگار سے وابستہ ہے، اوسط ماہانہ اجرت 17 ہزار 529 روپے سے بڑھ کر 30 ہزار 834 روپے تک پہنچی۔
ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ سروے کے دوران بین الاقوامی شماریاتی معیار اور اصولوں کی مکمل پابندی کی گئی، تاہم اس کے باوجود 5 فیصد تک ممکنہ غلطی کے امکان کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق غلطی کا یہ امکان بالخصوص غیر رسمی شعبے میں زیادہ ہو سکتا ہے، جہاں سروے کے عمل میں جواب دہندگان اور ڈیٹا اکٹھا کرنے والوں کے تعصبات شامل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق صوبائی سطح پر بلوچستان میں اوسط ماہانہ اجرت سب سے زیادہ 27 ہزار 659 روپے ریکارڈ کی گئی۔
اس فہرست میں سندھ 24 ہزار 664 روپے کے ساتھ دوسرے، خیبر پختونخوا 24 ہزار 28 روپے کے ساتھ تیسرے جبکہ پنجاب 23 ہزار 367 روپے کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔
تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں غیر رسمی تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبوں کے اندر اجرتوں کے حقیقی فرق پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔کچھ معاشی ماہرین نے ان صوبائی درجہ بندیوں کو زمینی حقائق کے بجائے سروے کے طریقۂ کار اور نمونے کے انتخاب کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 21-2020 میں مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد تھی، جو اگلے ہی سال بڑھ کر 29.18 فیصد تک پہنچ گئی، بعد ازاں 24-2023 میں یہ 23.41 فیصد رہی جبکہ 25-2024 میں اوسطاً 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے عرصے میں مجموعی مہنگائی نے حقیقی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو، جن کے اخراجات کا بڑا حصہ خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ پر صرف ہوتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








