پاکستان بھر میں آج یومِ بحریہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 1965 کی جنگ کے اُن عظیم ہیروز کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے دشمن کے مقابلے میں بہادری اور قربانی کی لازوال مثالیں قائم کیں اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں نثار کر دیں۔
یہ دن بالخصوص آپریشن ’’سومنات‘‘ کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نیوی کے جنگی جہازوں نے بھارتی ساحلی تنصیبات پر جرات مندانہ حملہ کر کے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
اسی جنگ میں آبدوز پی این ایس غازی نے پاکستان کی بحری برتری کا لوہا منوایا اور دشمن کو اپنی جارحانہ عزائم سے باز رہنے پر مجبور کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ آج بھی اسی عزم و حوصلے کے ساتھ ملک کی سمندری سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔
انہوں نے پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو قوم کا پہلا دفاعی حصار قرار دیتے ہوئے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدر نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح پاک بحریہ نے جرأت اور عزم کے ساتھ تاریخ کا سنہری باب رقم کیا۔ آپریشن سومنات آج بھی بہادری اور مہارت کی لازوال مثال ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
انہوں نے شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی جبکہ غازیوں کی استقامت پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ بحریہ نے ہمیشہ سمندری سرحدوں اور قومی مفادات کے تحفظ میں پیشہ ورانہ صلاحیت اور جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
یومِ بحریہ کی یہ تقریبات اس عزم کی تجدید ہیں کہ پاکستان نیوی آج بھی ایک جدید اور کثیرالجہتی فورس کے طور پر ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر دم تیار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








