خلائی ترقی کا نیا سنگِ میل! سپارکو 19 اکتوبر کو پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ لانچ کرے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan set to launch its first hyperspectral satellite on October 19
ONLINE

پاکستان کا خلائی ادارہ اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) 19 اکتوبر کو ملک کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (ایچ ایس ون) لانچ کرے گا، یہ سیٹلائٹ چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں روانہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ایک جدید کیمرہ ٹیکنالوجی ہے جو زمین اور فضا کے انتہائی باریک مشاہدے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عام سیٹلائٹ کیمروں کے برعکس جو صرف چند رنگوں (سرخ، سبز، نیلا) تک محدود ہوتے ہیں، ہائپر اسپیکٹرل کیمرے سینکڑوں باریک رنگی بینڈز کو قید کرتے ہیں، جس سے وہ روشنی کے معمولی فرق کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔

اسی خصوصیت کے باعث سائنس دان مختلف مادّوں کی شناخت، فصلوں اور سبزے میں تبدیلی، معدنی وسائل کی تلاش، آلودگی کی نگرانی اور ماحولیاتی تجزیے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سپارکو کے بیان کے مطابق ایچ ایس ون سیٹلائٹ کی لانچ پاکستان کے خلائی پروگرام کی تاریخ میں ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہوگی۔

یہ مشن ملک کو خلائی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر زرعی ترقی، شہری منصوبہ بندی، اور ماحولیاتی استحکام کے ایک نئے دور میں داخل کرے گا۔

زرعی میدان میں ایچ ایس ون سیٹلائٹ فصلوں کی صحت، مٹی کی نمی اور آبپاشی کے نظام سے متعلق درست معلومات فراہم کرے گا۔

سیٹلائٹ کے جدید سینسرز ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، انفراسٹرکچر کی میپنگ اور شہری پھیلاؤ کے تجزیے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔

سپارکو کے مطابق ایچ ایس ون انسانی ساختہ ڈھانچوں کے اسپیکٹرل سگنیچرز کو ریکارڈ کر کے پائیدار شہری منصوبہ بندی، زمین کے مؤثر استعمال اور قدرتی وسائل کے نظم و نسق میں معاون ثابت ہوگا۔

ادارے نے مزید بتایا کہ یہ سیٹلائٹ قدرتی آفات کے انتظام میں ابتدائی انتباہ اور فوری ردعمل کے نظام کو مضبوط بنائے گا۔

ایچ ایس ون سیلاب کی پیش گوئی، لینڈ سلائیڈنگ کی نگرانی اور قراقرم ہائی وے سمیت شمالی علاقوں میں جغرافیائی خطرات کے تجزیے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Related Posts