یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کی زبوں حال معیشت جس کا مورد الزام کئی حکومتوں کو ٹھہرایا جاسکتا ہے لیکن سیاسی ابتری میں بتدریج اضافہ معاشی ابتری کو مزید دوام دیتا جارہاہے۔
حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ بیرونی قرضہ جات 130 ارب ڈالر کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور اسی کے ساتھ اندورنی قرضہ جات ڈالر کے لحاظ سے تقریباً 137 ارب کے مساوی ہوچکے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ اندرونی اور بیرونی قرضہ جات ملاکر پاکستان کے ذمہ مجموعی قرض کو اگر پاکستانی روپے میں دیکھا جائے تو تقریباً 63کھرب کے قریب بنتا ہے جو دماغ کو ماؤف کرنے سے کم نہیں کہ قرضوں کے اس پہاڑ کو لاغر پاکستانی معیشت کیسے عبور کریگی۔
یہ ملک جو قدرتی وسائل سے مالا مال اور یہاں کے ہونہار نوجوانان ملت دنیا کے طول و عرض میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ منوانے میں مصروف ہیں اور ہمارے ملک کی روایتی، موروثی اور اشرافیہ کے سیاست پر قبضے کے سبب باصلاحیت اور اعلیٰ تربیت یافتہ لوگوں کو موقع ملنا ناممکنات میں شامل ہوگیا ہےاور کیوں نہ ہو جب مختلف حکومتوں میں اقرباء پروری، رشوت اور سفارش بامِ عروج پر ہوں تو معاشرے کے محنتی اور ہونہاروں کو ملک سے راہ فرار اختیار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال ان ممالک میں کریں جہاں صرف اور صرف صلاحیت یعنی میرٹ کی بنیاد پر انہیں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام تک پہنچنے سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن صد افسوس کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ سیاست رہی نہ شرافت رہی نہ قابلیت رہی ۔
بدن موجود لیکن سر نہیں ہے
یہاںاب کوئی بھی رہبر نہیں ہے
ہمارے مصروف و معدوم وزیراعظم ملک ملک کی ٹھوکریں کھاکر امداد حاصل کرنے کی تگ و دو میں اپنی تمام توانائی استعمال کررہے ہیں جو معروضی اور ماحولیاتی حالات میں قابل تحسین ہے مگر اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے اور وزیراعظم کی وہ چمک دمک اور چابکدستی جو وہ بحیثیت چیف منسٹر دکھایا کرتے تھے اس کی دور دور تک کوئی شبیہ نظر نہیں آرہی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے گرد ایسی جونکوں کا اضافہ ہوگیا ہے جو عرصہ دراز سے مملکت پاکستان کا خون چوستے چلے آرہے ہیں۔کاش ان لوگوں کا کچھ تدارک کیا جاسکتا ۔
جنیوا کانفرنس کے دوران مختلف ممالک کے قرض و امداد کے اعلانات تقریباً 10 ارب ڈالر پر محیط ہیں مگر میں نے اپنے اقوام متحدہ میں زمانہ تعیناتی میں دیکھا کہ عملی طور پر یہ پیسے 30 سے 40 فیصد تک بھی پہنچ جائیں تو غنیمت سمجھا جاتا ہے گوکہ ان پیسوں کا معیشت کو سہارا دینے میں کوئی خاص کردار نہیں لیکن پھر بھی حالیہ سیلاب زدگان کے اگلے 3 سالوں میں کچھ آنسو دھل سکتے ہیں۔
معدوم وزیراعظم کا حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات شاید پاکستان کیلئے مزید کچھ سانسیں لینے کا سہارا بن سکے ، اس میں یقیناً ہم شکر گزار ہیں امارات اور سعودی عرب کے حکمرانوں کے، کہ جنہوں نے ہماری معیشت کو سہارا دینے کیلئے مزید ایک ایک ارب بڑھادیا ہے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ امارات اور سعودیہ نے پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرض کی مدت کو اسی سال تک توسیع دیدی ہے اور ہمیں قلیل مدت میں یہ قرض واپس بھی لوٹانا ہے۔
شہبازشریف اپنے وزارت اعلیٰ کے زمانہ میں سرمایہ کاری کیلئے ون ونڈو کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیا کرتے تھے اور میرے امارات میں سفارت کاری کے دوران جب جب انہوں نے دورہ کیا، تو ہمیشہ سرمایہ کاروں کو یہ اعتماد دینے کی کوشش کی کہ آپ سرمایہ کاری کریں اور ہم آپ کے سہولت کار بنیں گے مگر بحیثیت سفیر جب میری ملاقاتیں امارات کے حکمرانوں یا سرمایہ کاروں سے ہوا کرتی تھیں تو ہمیشہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے دوران در در کی ٹھوکریں کھانے کی شکایات رہا کرتی تھیں۔
وہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں 24 سے زیادہ ادارے سرمایہ کاروں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات سرمایہ کار واپس بھاگنے کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کو سہولت پہنچانے میں حکومت کا کوئی خزانہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ اس میں صرف نیک نیتی درکار ہوتی ہے جو کہ شہباز حکومت یا صوبائی حکومت باآسانی کرسکتی ہیں۔
ملک کی مخدوش معیشت کو چند ہفتوں یا مہینوں میں سہارا دینے کیلئے راقم التحریر کی چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔
1۔ سمندر پار پاکستانیوں کو سفارتخانوں کے ذریعے ملک میں پیسہ بھیجنے پر تاریخی اسناد سے نوازا جائے اور وہ تمام شخصیات جو 10 ہزار ڈالر سے زائد رقومات ملک میں ترسیل کریں انہیں سفارتخانے میں داخلے کی خاص اجازت ہونی چاہیے۔ یہ تجربہ میں نے ذاتی طور پر کیا اور جس سے ترسیلات 3 گنا بڑھ گئیں۔ اگر حکومت اس تجویز پر سنجیدگی سے عمل کرے تو فقط خلیجی ممالک سے ہی ملکی ترسیلات میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ کرسکتی ہے۔
2۔ تارکین وطن کو آسان قرضوں کی سہولیات دی جائیں۔ خلیجی ریاستوں میں مقیم محنت کش محب وطن پاکستانی اپنی محنت مشقت کے پیسے اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں تو اس میں کبھی کبھار اپنے گھر کو بنانے یا بڑھانے میں کچھ پیسوں کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو اگر حکومت انہیں کچھ رقم بطور قرض روپوں کی صورت میں دے تو یہ زرمبادلہ بھیجنے والوں کی بڑی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس اقدام سے اگلے چند ہفتوں میں تقریباً ایک ارب ڈالر پاکستان آسکتا ہے۔
3۔ کوآپریٹو فارمنگ بھی ملکی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، حکومت کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر اور ویران پڑی ہیں جسے ایف ڈبلیو او کی معاونت سے ایڈوانس بکنگ کے ذریعے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے مخصوص کیا جاسکتا ہے ، ان زمینوں کی بکنگ سے تقریباً ایک ارب ڈالر کا سرمایہ باآسانی پاکستان پہنچ سکتا ہے۔
4۔ 15 سو سے زائد ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کو فعال بناکر ہم اپنی افرادی قوت کو قلیل وقت میں عالمی سرٹیفکیشن کرواتے ہوئے مختلف ممالک میں قابل قبول بناسکتے ہیں جس سے نہ صرف بے روزگاری کم ہوگی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ہماری افرادی قوت کی مانگ میں کمی کی وجہ صرف اور صرف سرٹیفکیشن ہے جس کی وجہ سے بھارت، فلپائن، بنگلہ دیش اور نیپال پاکستان سے آگے جارہے ہیں تاہم اگر ہم سرٹیفکیشن کے عمل کو بہتر بنائیں تو ان ممالک کا مقابلہ ممکن ہے۔
اگر حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اپنے پیچیدہ طریقہ کار کو سہل بنائے اور سمندر پار پاکستانیوں کو مزید کچھ سہولیات مہیا کرے تو اس میں بھی قلیل مدتی طور پر باآسانی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے معاشی حالات 3 ماہ میں بہتر نہ ہوسکیں۔
وطن عزیز کو اس دلدل سے نکالنے کیلئےاور اوّل الذکر تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صرف اور صرف جذبے کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ ملک و ملت کے ہونہاروں اور اداروں میں جذبوں کی کوئی کمی نہیں ، اگر کمی ہے تو صرف لیڈر شپ، منصوبہ بندی، پالیسیوں اور سنجیدگی کا فقدان ہے جس کا تدارک اشد ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں