یکم جنوری کو پاکستانی مصنف، قانون دان اور پی ایچ ڈی کے طالب علم زورین نظامانی نے ایک مؤقر روزنامے میں اپنے آرٹیکل میں ملک کے نوجوان طبقے کی ناکامی کا ذمہ دار ان کے آباو اجداد اور پرانی نسل کو ٹھہرا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زورین نظامانی نے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع کیے گئے آرٹیکل “اٹ از اوور” میں معاشی مسائل، نظام کی عدم مساوات اور مواقع کی عدم دستیابی کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دلیل دی کہ زبردستی کی وطن پرستی اور سنسرشپ سے معلومات رکھنے والی اور آزاد خیال نوجوان نسل کو متاثر نہیں کیاجاسکتا۔
زورین نظامانی نے تحریر کیا کہ نوجوان پاکستانی ملک کے روایتی بیانیوں سے انحراف پر عمل پیرا ہیں اور ملک چھوڑ کر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں، وہ متبادل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے میمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آن لائن آزادئ اظہار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
Even the Gen-X who was once in trance of Establishment & Military have woken up.
And guess who the parents of Gen Z and Alphas are… Yup the same Gen-Xers.
It truly is over.#2026YearOfImranKhan
It is Over https://t.co/IwIy5hDFDK— Ali (@pakipowerz) January 2, 2026
ان کی رائے میں وطن پرستی کا تعلق مناسب مواقع سے ہوتا ہے، نہ کہ لیکچر دینے سے اسے پیدا کیاجاسکتا ہے جبکہ جنریشن زی کا مطالبہ ہے کہ انہیں تیز رفتار انٹرنیٹ، آزادی اور اظہارِ رائے کی قدغنوں سے نجات دی جائے۔
Every Gen Z is pure idiot in all periods of history. They learn after they cross 30 that how life works and how to build something meaningful rather than simply virtue signaling https://t.co/1oKQqqst0T
— Stephen (@stephen_john28) January 2, 2026
ابھی یہ آرٹیکل شائع ہوئے ایک روز بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ اسے ٹریبیون کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ مبینہ طور پر دباؤ ہوسکتا ہے تاہم سنسرشپ یہ آرٹیکل ہٹانے میں تو کامیاب رہی لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی انگریزی اور اردو ٹرانسلیشن، آڈیو ریڈنگ اور ویڈیوز وائرل ہوگئیں، جسے ہزاروں بار شیئر اور کوٹ کیا گیا۔
سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ یہ آرٹیکل دو نسلوں کے باہمی تصادم سے عبارت رہا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تحریریں تو آن لائن ویب سائٹس سے ہٹائی بھی جاسکتی ہیں لیکن ڈیجیٹل عہد میں خیالات اور نظریات کو قید نہیں کیاجاسکتا۔
What a brilliant article by Zorain Nizamani (PhD Student) – This article is taken off from @etribune website most likely because it is calling all DG ISPR visits to universities a wasteful exercise because the Youth is not fooled by their propaganda.
Here are some brilliant… pic.twitter.com/kZcZ0CBoVC
— Jibran Ilyas (@agentjay2009) January 1, 2026
بعد ازاں زورین نظامانی نے اپنے آرٹیکل کیلئے آواز اٹھانے پر اپنے سپورٹرز، سوشل میڈیا صارفین اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کیوں اپنے آباواجداد سے خائف نظر آتی ہے اور کیوں برین ڈرین کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ نوجوان نسل ملک چھوڑ کر جانے کو کیوں ترجیح دیتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان سے 8لاکھ سے لے کر 8لاکھ 62 ہزار افراد نے ہجرت کرکے بیرونِ ملک ملازمت کے حصول کو ترجیح دی جبکہ سرویز سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام اور مواقع کی عدم دستیابی سے غیر مطمئن اور بدظن ہیں اور اپنے ملک کی کھل کر خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








