پاکستان کی جنریشن زی نے سوشل میڈیا پر خاموشی توڑ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

جنریشن زی
(فوٹو: آن لائن)

یکم جنوری کو پاکستانی مصنف، قانون دان اور پی ایچ ڈی کے طالب علم زورین نظامانی نے ایک مؤقر روزنامے میں اپنے آرٹیکل میں ملک کے نوجوان طبقے کی ناکامی کا ذمہ دار ان کے آباو اجداد اور پرانی نسل کو ٹھہرا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زورین نظامانی نے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع کیے گئے آرٹیکل “اٹ از اوور” میں معاشی مسائل، نظام کی عدم مساوات اور مواقع کی عدم دستیابی کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دلیل دی کہ زبردستی کی وطن پرستی اور سنسرشپ سے معلومات رکھنے والی اور آزاد خیال نوجوان نسل کو متاثر نہیں کیاجاسکتا۔

زورین نظامانی نے تحریر کیا کہ نوجوان پاکستانی ملک کے روایتی بیانیوں سے انحراف پر عمل پیرا ہیں اور ملک چھوڑ کر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں، وہ متبادل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے میمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آن لائن آزادئ اظہار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ان کی رائے میں وطن پرستی کا تعلق مناسب مواقع سے ہوتا ہے، نہ کہ لیکچر دینے سے اسے پیدا کیاجاسکتا ہے جبکہ جنریشن زی کا مطالبہ ہے کہ انہیں تیز رفتار انٹرنیٹ، آزادی اور اظہارِ رائے کی قدغنوں سے نجات دی جائے۔

ابھی یہ آرٹیکل شائع ہوئے ایک روز بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ اسے ٹریبیون کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ مبینہ طور پر دباؤ ہوسکتا ہے تاہم سنسرشپ یہ آرٹیکل ہٹانے میں تو کامیاب رہی لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی انگریزی اور اردو ٹرانسلیشن، آڈیو ریڈنگ اور ویڈیوز وائرل ہوگئیں، جسے ہزاروں بار شیئر اور کوٹ کیا گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ یہ آرٹیکل دو نسلوں کے باہمی تصادم سے عبارت رہا جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تحریریں تو آن لائن ویب سائٹس سے ہٹائی بھی جاسکتی ہیں لیکن ڈیجیٹل عہد میں خیالات اور نظریات کو قید نہیں کیاجاسکتا۔

بعد ازاں زورین نظامانی نے اپنے آرٹیکل کیلئے آواز اٹھانے پر اپنے سپورٹرز، سوشل میڈیا صارفین اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کیوں اپنے آباواجداد سے خائف نظر آتی ہے اور کیوں برین ڈرین کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ نوجوان نسل ملک چھوڑ کر جانے کو کیوں ترجیح دیتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان سے 8لاکھ سے لے کر 8لاکھ 62 ہزار افراد نے ہجرت کرکے بیرونِ ملک ملازمت کے حصول کو ترجیح دی جبکہ سرویز سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام اور مواقع کی عدم دستیابی سے غیر مطمئن اور بدظن ہیں اور اپنے ملک کی کھل کر خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

Related Posts