پاکستان نے پہلی بار چین کی مقامی مالیاتی منڈی میں یوآن کرنسی میں پانڈا بانڈ جاری کر دیا ہے جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستان نے 1.75 ارب یوآن، یعنی تقریباً 25 کروڑ ڈالر مالیت کے بانڈز 2.5 فیصد شرحِ منافع پر جاری کیے۔
پانڈا بانڈ دراصل وہ بانڈز ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ میں چینی کرنسی یوآن میں جاری کرتے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ پاکستان نے پہلی مرتبہ چین کی آن شور کیپٹل مارکیٹ میں باضابطہ داخلہ لیا ہے جو دنیا کی بڑی مالیاتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔
پاکستان جو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے دوطرفہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں پر انحصار کرتا ہے اس بانڈ اجرا کو مالی وسائل کے نئے ذرائع تلاش کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہا ہے۔
خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ 1.75 ارب یوآن کے اس تاریخی پانڈا بانڈ کے اجرا کو سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق بانڈ کے لیے 8.8 ارب یوآن، یعنی تقریباً 1.26 ارب ڈالر سے زائد کی بولیاں موصول ہوئیں جس کے باعث یہ اجرا پانچ گنا سے زیادہ سبسکرائب ہوا۔
𝗘𝘅𝗰𝗹𝘂𝘀𝗶𝘃𝗲: 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻’𝘀 𝗜𝗻𝗮𝘂𝗴𝘂𝗿𝗮𝗹 𝗣𝗮𝗻𝗱𝗮 𝗕𝗼𝗻𝗱 𝗚𝗼𝗲𝘀 𝗧𝗵𝗿𝗼𝘂𝗴𝗵 – 𝗠𝗮𝗿𝗸𝘀 𝗛𝗶𝘀𝘁𝗼𝗿𝗶𝗰 𝗕𝗿𝗲𝗮𝗸𝘁𝗵𝗿𝗼𝘂𝗴𝗵 𝗶𝗻 𝗚𝗹𝗼𝗯𝗮𝗹 𝗖𝗮𝗽𝗶𝘁𝗮𝗹 𝗠𝗮𝗿𝗸𝗲𝘁𝘀
Pakistan has successfully completed its inaugural Panda Bond issuance… pic.twitter.com/l6vTwLGSxX
— Khurram Schehzad (@kschehzad) May 14, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں حاصل ہونے والی سرمایہ کاری پاکستان کے پورے مجوزہ پانڈا بانڈ پروگرام، جس کا حجم 7.2 ارب یوآن یا ایک ارب ڈالر رکھا گیا ہے، سے بھی زیادہ رہی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی اقدامات پر عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے نہ صرف پاکستان نے چینی مالیاتی منڈی میں قدم رکھا بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے اور پاکستان و چین کے درمیان مالیاتی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے اس پیش رفت کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ پاکستان اب قلیل مدتی مالی دباؤ سے نکل کر طویل المدتی سرمایہ کاری اور عالمی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی عالمی اقتصادی اور مالیاتی شراکت داری میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں ہونے والی تقریبِ اجرا میں چینی حکام، مالیاتی اداروں، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور بینکاری شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








