دو بچوں کی ماں 40 سالہ صائمہ وکٹر دو عشروں سے زیادہ عرصے سے کراچی میں بیوٹیشن کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اگرچہ وہ ماہانہ 40,000 روپے ($142) کماتی تھیں لیکن سیلون میں ان کی 10 گھنٹے کی نوکری اور کام کے لیے آنے جانے کی وجہ سے ان کے پاس بہت کم وقت اور توانائی باقی بچتی تھی کہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاریں۔
جون 2022 میں صائمہ وکٹر نے کلائنٹس تلاش کرنے کے لیے سنگاپور میں قائم ہوم سروسز فراہم کرنے والی ایپ ہیلپ کا استعمال شروع کیا اور تب سے انہیں مالی آزادی اور کام اور زندگی کے درمیان توازن کے لیے ایک نیا راستہ مل گیا ہے۔ اب وہ 35 بیوٹیشنز میں سے ایک ہیں جو اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی میں ایپ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جہاں وقت اور پیسہ اکثر قیمتی اشیاء میں شامل ہیں۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxNzEyMzcsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE3MTIzNyAtINm+2Kfaqdiz2KrYp9mG24wg2LfZhNio24Eg2qnYpyDYqNqR2Kcg2qnYp9ix2YbYp9mF24HYjCDYrtmI2K8g2qnYp9ixINqv2KfakduMINiq24zYp9ixINqp2LHZhNuM2Iwg2LnYp9mE2YXbjCDYs9i32K0g2b7YsSDZvtiw24zYsdin2KbbjCIsInVybCI6IiIsImltYWdlX2lkIjoxNzEyMzksImltYWdlX3VybCI6Imh0dHBzOi8vbW1uZXdzLnR2L3VyZHUvd3AtY29udGVudC91cGxvYWRzLzIwMjMvMDgvc2VsZi1kcml2aW5nLWNhci1tYWRlLWJ5LXBha2llcy0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2b7Yp9qp2LPYqtin2YbbjCDYt9mE2KjbgSDaqdinINio2pHYpyDaqdin2LHZhtin2YXbgdiMINiu2YjYryDaqdin2LEg2q/Yp9qR24wg2KrbjNin2LEg2qnYsdmE24zYjCDYudin2YTZhduMINiz2LfYrSDZvtixINm+2LDbjNix2KfYptuMIiwic3VtbWFyeSI6ItmF2YTaqduMINiq2KfYsduM2K4g2YXbjNq6INm+24HZhNuMINio2KfYsSDaqdiz24wg2b7Yp9qp2LPYqtin2YbbjCDZuduM2YUg2YbbkiDZiNix2YTaiCDYsdmI2KjZiNm5INin2YjZhNmF2b7bjNin2oggKFdSTykg2qnbkiDYstuM2LEg2Kfbgdiq2YXYp9mFINiz24zZhNmBINqI2LHYp9im24zZiNmG2q8g2qnYp9ixINmF2YLYp9io2YTbkiDaqduSINmE24zbkiDaqdmI2KfZhNuM2YHYp9im24wg2qnYsSDZhNuM2Kcg24HbktuUINm+2Kfaqdiz2KrYp9mG24wg2bnbjNmFINmG2YjZhdio2LEg2YXbjNq6INm+2KfZhtin2YXYpyDYs9m524wg2YXbjNq6INuB2YjZhtuSINmI2KfZhNuSIFdST+KAmTIzINin2YbZudix2YbbjNi02YbZhCDZgdin2KbZhtmEINmF24zauiDZvtin2qnYs9iq2KfZhiDaqduMINmG2YXYp9im2YbYr9qv24wg2qnYsduSINqv24zblCDZvtin2qnYs9iq2KfZhiDaqduSINiq24zZhiDbgdmI2Ybbgdin2LEg2LfZhNio2KfYoSDZhdit2YXYryDbgdin2K/bjCDYs9uM2YHYjCDYp9uM2KfZhiDZiNmC2KfYsSDYp9mI2LEg2LnZhNuMINiz24zZgSDZvtixINmF2LTYqtmF2YQg2bnbjNmFINmG25Ig2KfbjNqpINiz24zZhNmBINqI2LHYp9im24zZiNmG2q8g2q/Yp9qR24wg2KrbjNin2LEg2qnbjCDbgduSINis2LMg2YXbjNq6INmF2LXZhtmI2LnbjCDYsNuB2KfZhtiqINqp24wg2KzYr9uM2K8g2KrYsduM2YYg2bnbjNqp2YbYp9mE2YjYrNuMINin2LPYqti52YXYp9mEINqp24wg2q/YptuMINuB25LblCDbjNuBINio2r7bjCDZvtqR2r7bjNq6OiDYs9qp2r7ZiNq6INmF24zauiDYp9mG2ojbjNinINiz25Ig2YbZgdix2Kog2Kjakdq+2YbbkiDZhNqv24zYjCDaqduM2YbbjNqI2Kcg2YXbjNq6INmF2YbYr9ixINqp24wg2K/bjNmI2KfYsdmI2rog2b7YsSDYotiy2KfYr9uMINqp25Ig2YbYudix25Ig2YTaqdq+Li4uIiwidGVtcGxhdGUiOiJ1c2VfZGVmYXVsdF9mcm9tX3NldHRpbmdzIn0=”]
صائمہ وکٹر کہتی ہیں کہ اب وہ ایک ترقی پذیر بیوٹیشن ہیں اور انہوں نے ہیلپ کے ذریعے اپنی آمدنی دوگنا ہوتے دیکھی ہے جو پاکستان کے کراچی اور لاہور شہروں میں آن ڈیمانڈ سیلون، لانڈری، پینٹ اور ایئر کنڈیشنگ کی خدمات پیش کرتی ہے۔
ان کے بقول رجسٹریشن سے پہلے میں صبح 11 بجے سے شام 9 بجے تک سیلون میں کام کرتی تھی اور بچوں کی مناسب نگہداشت کرنے سے قاصر تھی۔ اب ٹیکنالوجی نے کافی تک مالی بوجھ کم کر دیا ہے۔
صائمہ وکٹر کو اپنے موبائل فون پر براہِ راست گاہکوں سے بکنگ کے آرڈر ملتے ہیں جبکہ ان کے شوہر جوزف وکٹر انہیں شہر کے مختلف علاقوں میں گاہکوں کے پاس لے جاتے ہیں۔
2022 میں ایپ میں شامل ہونے والی ایک اور 26 سالہ بیوٹیشن نویزہ کامران کہتی ہیں کہ اس نے ان کی آمدنی 20,000 روپے ($71) سے بڑھا کر 50,000 روپے ($177) سے زیادہ کرنے میں مدد کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرے شوہر ایک فرنیچر مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جہاں انہیں کبھی کام مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔ اب وہ ہیلپ ایپ کے ذریعے اپنے گھریلو اخراجات کا بوجھ مل کر اٹھا سکتی ہیں۔
پاکستان میں معاشی چیلنجوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں مختلف شعبوں میں آن لائن پلیٹ فارم گھرانوں کے لیے ایک اہم سہارے کے طور پر ابھر رہے ہیں جو سنگین معاشی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ فراہم کر رہے ہیں۔
ہیلپ کے حکام کہتے ہیں کہ خواتین نے ان کی ایپ کا استعمال کرکے اپنی آمدنی میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ہیلپ میں کیٹیگری ہیڈ اسرا انوار الحق کہتی ہیں ان کے پلیٹ فارم کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں پاکستان میں تقریباً 100,000 خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








