اسلام آباد :ملک بھر سے آئے ہوئے احتجاجی مظاہرین نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بحرین کی جیل میں قید اپنے رشتے داروں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بحرین کی جیل میں ہمارے پیارے کئی سال سے مختلف مقدمات میں قید کاٹ رہے ہیں جب کہ ہمیں اس کا بات کا علم نہیں ہے کہ ان پر کون کونسے مقدمات قائم کیے گئے ہیں ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی اپنے رشتہ داروں کیا تھا تو وزیراعظم عمران خان نے اور معاون خصوصی زلفی بخاری میں ایک لیٹر جاری کیا تھا بحرین کی حکومت کو تو پھر وہاں سے 175 قیدی رہا ہو کر پاکستان آگئے تھے اب صرف ہمارے 45 قیدی بحرین کی جیل میں قید ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ وہاں ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے ، غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے پینے کے لئے پانچ پانچ دن تک پانی تک نہیں دیا جاتا ،جیلوں کے اندر سخت سے سخت کام کروایا جاتا ہے۔
ہم وزیراعظم پاکستان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بحرین میں پاکستانی سفارتخانے کا عملہ بھی کوئی تعاون نہیں کر رہا ۔
وزیرعظم عمران خان اپنا وعدہ پورا کریں اور بحرین میں قید پاکستانیوں کو واپس پاکستان لے کر آئیں ،چھوٹے بچے عرصہ دس سال سے پانچ سال سے اپنے والد کی راہ دیکھ رہے ہیں۔
گھروں کے حالات انتہائی مخدوش ہے اور کھانے پینے کو کچھ نہیں ،مشکل حالات سے گزارا کر رہے ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بحرین کی حکومت سے بات چیت کرکے ہمارے رشتہ داروں کو رہائی دلائیں۔