عوام کیلئے 27 ویں آئینی ترمیم کی آسان وضاحت

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan’s 27th Constitutional Amendment introduces Federal Constitutional Court and Chief of Defense Forces
PHOTO: INDIATODAY

پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدالتی اور دفاعی نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کے بعد ملکی طاقت کے ڈھانچے اور آئینی تشریحات کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔

یہ ترامیم نہ صرف اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ اختیار میں نئی وضاحت لائیں گی بلکہ فوجی قیادت کے نظام میں بھی ایک بڑا انقلابی موڑ پیدا کریں گی۔

عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں
نئی ترمیم کے مطابق اب پاکستان میں ایک نئی عدالت قائم کی جائے گی جسے وفاقی آئینی عدالت کہا جائے گا۔

یہ عدالت صرف آئین سے متعلق معاملات، آئینی تشریحات، اور قانونی اختلافات کے فیصلے سننے کی مجاز ہوگی۔ اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد آئینی ابہامات کو ختم کرنا اور آئین کی یکساں تشریح فراہم کرنا ہوگا۔

عدالتوں کے نظام میں ایک اور بڑی تبدیلی ججوں کے تبادلوں سے متعلق کی گئی ہے۔ ماضی میں ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلے ایک پیچیدہ عمل تھا مگر اب صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں کر سکیں۔

اس نئے طریقہ کار میں دونوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کو بھی جوڈیشل کمیشن میں بطور رکن شامل کیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ فیصلے کیے جا سکیں۔

آئینی ترمیم میں صدر اور گورنرز کے لیے استثنیٰ کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق جب تک کوئی شخص صدر یا گورنر کے عہدے پر فائز ہے، اس کے خلاف کسی بھی عدالت میں کوئی مجرمانہ مقدمہ درج یا زیرِ سماعت نہیں ہو سکے گا۔ جب وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائے گا اور اگر کسی عوامی عہدے پر فائز ہوتا ہے، تو اس وقت یہ استثنیٰ خود بخود ختم ہو جائے گی۔

دفاعی قیادت میں انقلابی تبدیلیاں
دفاعی ڈھانچے میں سب سے بڑی تبدیلی چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس کے تحت 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔

اب وزیرِاعظم کی سفارش پر صدر مملکت، چیف آف آرمی اسٹاف کو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی مقرر کریں گے۔ اس طرح ایک ہی شخصیت تینوں افواج بری، بحری، اور فضائی کی اعلیٰ ترین کمانڈ سنبھالے گی۔

دوسری جانب چیف آف ایئر اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف کی تقرریاں صرف وزیرِاعظم کے مشورے پر کی جائیں گی جبکہ ایٹمی اثاثوں کی نگرانی اور کمانڈ کے لیے ایک نیا عہدہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تخلیق کیا گیا ہے۔

اس عہدے پر پاکستان آرمی کا کوئی سینئر افسر تعینات ہوگا جس کی نامزدگی چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیرِاعظم کی منظوری سے ہوگی۔

ترمیم کے مطابق اگر حکومتِ پاکستان کسی اعلیٰ فوجی افسر کو فائیو اسٹار رینک یعنی فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی دیتی ہے تو وہ افسر زندگی بھر اپنا رینک، وردی اور تمام مراعات برقرار رکھے گا۔

اپنی کمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ایسے افسر کو ملکی مفاد میں مخصوص ذمہ داریاں سونپی جا سکیں گی جنہیں وہ وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق انجام دے گا۔

یہ ترامیم آئینی و عسکری ڈھانچے میں ایسی تبدیلیوں کی نشاندہی کر رہی ہیں جو آنے والے برسوں میں پاکستان کے حکومتی نظام، فوجی نظم و ضبط اور آئینی تشریح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

Related Posts