آج 10 مارچ پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے اہم دن ہے کیونکہ ملک میں طویل انتظار کے بعد بالآخر 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل ہو رہا ہے۔ یہ نیلامی پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ سروسز متعارف کرانے کے سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے۔
ملک میں 5جی سروس کے آغاز کی تیاری کئی برسوں سے جاری تھی، اور پہلی بار 2022 میں حکومت نے 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی جلد مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم قانونی، انتظامی اور مالی مسائل کے باعث یہ عمل کئی مرتبہ تاخیر کا شکار رہا۔ خاص طور پر 2600 میگا ہرٹز بینڈ پر قانونی مقدمات نے نیلامی میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ 2024 میں بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ نیلامی کے طریقہ کار اور قیمتوں کے حوالے سے سفارشات تیار کی جا سکیں۔
اب پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پیش کیا جا رہا ہے، جس سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالرز بغیر ٹیکس آمدنی کی توقع ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا خواجہ فاطمہ کے مطابق ملک میں 1987 سے صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے نیٹ ورک کی رفتار اور معیار پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ نئی نیلامی کے بعد ملک بھر میں جدید موبائل سروسز، خصوصاً 5جی، کے لیے بہتر بنیاد فراہم ہو گی۔
پی ٹی اے کے حکام کے مطابق نیلامی میں چھ مختلف اسپیکٹرم بینڈز شامل ہیں، جن میں 2300 اور 2600 میگا ہرٹز ایسے بینڈ ہیں جو 4جی اور 5جی دونوں سروسز کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ملک میں ٹیلی کام ٹاورز کی تعداد تقریباً 59,000 تک پہنچ چکی ہے، جس سے 5جی سروس کے آغاز میں زیادہ مستحکم کنیکٹیویٹی ممکن ہو گی۔ ابتدائی مرحلے میں 5جی کی رفتار تقریباً 50 ایم بی پی ایس تک ہو سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں رفتار 4جی نیٹ ورک کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا بہتر ہو جائے گی۔
ٹیکنالوجی ماہر ڈاکٹر اسد علی کے مطابق 5جی کی سب سے بڑی خصوصیات اعلی بینڈوتھ، کم لیٹنسی اور زیادہ کنکشن کی صلاحیت ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین آن لائن گیمز، ویڈیو کالز اور ہائی ریزولوشن اسٹریمز میں ایک سیکنڈ سے بھی کم لیٹنسی محسوس کریں گے۔ 5جی سروس صرف شہروں میں نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی نیٹ ورک کی دستیابی میں بہتری لائے گی، اور یہ صنعتی عمل، اسمارٹ شہروں، IoT ڈیوائسز اور آٹونومس سسٹمز کے لیے بنیادی ستون فراہم کرے گی۔
پی ٹی اے کے ڈی جی لائسنس عامر شہزاد نے بتایا کہ نیٹ ورک بیک ورڈ کمپٹیبل ہوگا، یعنی صارفین بغیر 5جی فون کے بھی 5جی ایریا میں 4جی استعمال کر سکیں گے۔ 5جی مرحلہ وار بنیادوں پر لانچ ہوگی، ابتدائی طور پر بڑے شہروں اور منتخب کاروباری علاقوں میں، جبکہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں بھی چار سے پانچ گنا بہتری کی توقع ہے۔
اس طرح 5جی نیٹ ورک کے نفاذ سے نہ صرف ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت اور کاروبار کے شعبوں میں بھی تیزی متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








