آخری بار پاکستان گندم کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں 2008 سے 2013 تک خود کفیل ہوا تھا، اس کے بعد اسے ہر سال بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا پڑی۔ حکومتوں پر زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ملک میں آنے والے حالیہ بدترین سیلاب سے تباہ و برباد ہونے والے کسان بمشکل دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو پائے ہیں، اب وہ آئندہ سیزن کے لیے گندم کی بوائی کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت نے کسانوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن ان پر بیج کا بحران منڈلا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال کھاد کے بحران کے باعث گندم کی کٹائی ہدف سے 30 لاکھ ٹن کم ہوئی تھی جسے درآمد کرکے پورا کرنا پڑا تھا۔ اور اب، قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مزید آٹھ لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دے دی ہے، جس کی قیمت گزشتہ سال کی قیمت سے دوگنی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے روس سے 300,000 ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
دو ماہ قبل سندھ کی 30 لاکھ ایکڑ اراضی سمیت جنوبی پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں وسیع زرعی اراضی زیر آب آگئی تھی۔ اس وقت بھی سندھ کا 12 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ سیلابی پانی کی زد میں ہے۔ ان علاقوں میں پہلے خریف کی فصل متاثر ہوئی اور اب گندم کی بوائی کا وقت گزر رہا ہے۔
پاکستان میں پنجاب اور سندھ گندم پیدا کرنے والے دو بڑے صوبے ہیں اور ملک گندم کی خریداری کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ان دو صوبوں کی پیداوار پر انحصار کرتا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گزشتہ دو سالوں سے ملک کی گندم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کر رہا ہے۔ پاکستان میں گندم ایک اہم غذا ہے اور ہر پاکستانی سالانہ اوسطاً 124 کلو گرام گندم استعمال کرتا ہے۔
اگر کسانوں کو اچھا معاوضہ ملتا ہے تو وہ گندم کی بوائی کے لئے آگے آئیں گے، حکومت کو چاہیے کہ گندم کو بڑے پیمانے پر ذخیرہ کرے تاکہ ہر سال جب گندم کی قلت ہوتی ہے تو اس گندم کو مارکیٹ میں لایا جا سکے اور مافیا کو لگام ڈالا جاسکے اور ملک گندم کے حوالے سے خود کفیل ہوسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں