پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود عام آدمی کی معاشی پریشانیوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لوگوں خصوصاً تنخواہ دار طبقے کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنتی جارہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنادیا ہے، اور متعدد ممالک کے فی کس ریونیو کا تقابلی تجزیہ کیے بغیر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں۔.

اس سلسلے میں، بڑھتی ہوئی افراط زر نے ہماری معیشت کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے، بنیادی طور پر صنعتی شعبہ متاثر ہوا ہے، کیونکہ اس شعبے کا زیادہ تر انحصار درآمد شدہ خام مال اور توانائی پر ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی بڑے پیمانے پر گراوٹ کی وجہ سے قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ماضی کی حکومت کو ملک کو بھاری قرضوں میں دھکیلنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور دوسری جانب حکومت وقت نے اپنے دور میں اب تک ریکارڈ قرضے لئے ہیں، کبھی وزیر اعظم کی جانب سے کورونا کو معیشت کی تنزلی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کے برعکس وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق داؤد ریکارڈ برآمدات اور ملک کی بدقسمت معیشت کی ریکارڈ بحالی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔

یہاں وہ بنیادی سوال جو عام آدمی کے ذہن میں آتا ہے کہ اگر معیشت حکومت کے دعوؤں کے مطابق ترقی کر رہی ہے تو ہمیں بیل آؤٹ پیکج کے لیے کبھی آئی ایم ایف، چین، سعودی عرب اور کبھی متحدہ عرب امارات کیوں جانا پڑتا ہے؟

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ روزانہ کی بنیاد پر وزراء کی جانب سے بتایا جا رہا تھا کہ یہ سرپلس ہے لیکن اب جب یہ ریکارڈ بلندی کو چھو رہا ہے تو کوئی اقتصادی پالیسی کی ناکامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ گیس کا بحران، ایندھن کا بحران، چینی کا بحران، آٹے کا بحران، طبی بحران اور فہرست بہت طویل ہے، حکومت مذکورہ بحرانوں پر قابو پانے میں ناکامی کی ذمہ داری کیوں نہیں لے رہی؟

حکومت کو ملک کی معاشی حالات کے حوالے سے اصل حقائق بتانے سے گریز نہیں کرنا چاہئے، اور اسے تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کے فیصلوں سے پہلے ہی بدحال معیشت کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت کو عوامی مفاد کی خاطر فوری ایسے فیصلے لینے کی ضرورت ہے جس سے عام آدمی کے حالات زندگی میں کچھ بہتری آسکے۔

Related Posts