پاکستان میں تین بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے نجکاری کے اقدامات پر غور جاری ہے جس کی سفارش حالیہ اجلاس میں نجکاری کمیشن کی جانب سے کی گئی ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے نجکاری مشیر محمد علی نے کی، جس میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے انتظامات کو حکومت کے نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
اس موقع پر کمیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے لیے عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت والے کنسورشیم میں اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیوٹ) لمیٹڈ کی شمولیت کی بھی باضابطہ منظوری دی۔
اس اقدام کے تحت تینوں ہوائی اڈوں کے انتظام اور آپریشنز طویل مدتی کنسیشن ماڈل کے تحت نجی شعبے کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ نجی اور بین الاقوامی مہارت سے کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے، سروس کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور قومی خزانے کے لیے آمدنی پیدا کی جا سکے۔
یہ ایک سفارش ہے، جس کا مطلب ہے کہ حتمی بولی کا عمل شروع کرنے سے قبل مزید منظوری درکار ہوگی۔ اس سے قبل قطر، متحدہ عرب امارات، اور ترکی کے کنسورشیم سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں نے ان ہوائی اڈوں کے انتظام میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
اسلام آباد ایئرپورٹ کے لیے 15 سالہ کنسیشن کی درخواست برائے تجاویز پہلے بھی جاری کی گئی تھی، جس میں ترکی کی قیادت میں کنسورشیم نے حکومت کی مقررہ کم از کم فیس سے کم بولی دی تھی۔
تینوں ہوائی اڈوں کے لیے نئی مشترکہ حکمت عملی پچھلے عمل کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ اقدام سرکاری اداروں میں اصلاحات کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








