وباء اور معیشت کی تباہی

تازہ ترین

تازہ ترین

کورونا وائرس کی وباء کے باعث 2020ۓء میں عالمی معیشت تیزی سے گرنے کی امید ہے، سال 2020ء میں 2008ء سے بھی بدترین کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کورونا کی وباء پھوٹنےسے پہلے سال 2020 ء کوپاکستان کی معیشت کے لئے ترقی کا سال قرار دیا جارہا تھا لیکن افسوس کہ عالمی سطح پر کورونا نے پوری دنیا کی معاشی حیثیت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔

اس تباہی کی وجہ سے موجودہ مالی سال 2019-20ءمیں پاکستان کی معاشی نمو تقریبا سات دہائیوں کے بعدمنفی ہندسے میں جانے کی امید ہے اور اس وقت توقع کی جارہی ہے کہ تمام بڑے معاشی اہداف ضائع ہوجائیں گے۔

عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے 1.3 فیصد سے 1.5 فیصد کی حد تک معاشی نمو کی پیش گوئی کی ہے۔ گذشتہ مالی سال 2018-19ء کی شرح نمو 3.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی تاہم مہلک وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے پوری دنیا میں کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ طلب میں کمی اور افراط زر ہے۔

پچھلے تین ماہ کی مدت کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سود کی شرح کو چار مرتبہ گھٹاتے ہوئے نو فیصد کردیا ہے۔ معیشت اور صحت کے بحران کے دوران پاکستان نے اس سال سب سے زیادہ شرح سود میں کمی کی ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا کو بے روزگاری کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے کیونکہ کاروباری سرگرمیاں رک چکی ہیں۔ اس وبائی مرض نے دنیا بھر میں لاکھوں ملازمتوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ کاروبار بند ہوگئے اور کمپنیوں نے بڑی تعداد میں ملازمین کو نکالنا شروع کردیاہے۔

آٹوموبائل سیکٹر کو بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپریل کے مہینے میں ایک بھی کار فروخت نہیں کی گئی جبکہ اپریل 2020 میں ملک کی برآمدات میں 54٪ کی کمی واقع ہوئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کے مطابق کوویڈ ۔19 کی وجہ سے 19 ملین افراد کو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ وبائی بیماری کے بعد کی صورتحال اور بھی خراب ہوسکتی ہے ۔

پاکستان کی معیشت پر بے حد دباؤ کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے تین ماہ کی توسیع فراہم کردی ہے۔ نئی ڈیڈ لائن اب ستمبر 2020 ہے۔

یہ طے کرنا باقی ہے کہ حکومت اس معاشی نقصان سے نمٹنے کے لئے کیا حکمت عملی اپنائے گی اور وباء سے چھٹکارہ پانے کے بعدسامنے آنے والے چیلنجوں سے کیسے نجات پائے گی۔

Related Posts